بین الاقوامی خبریں

افغانستان میں شدید بارشوں اور سیلاب سے 37 افراد ہلاک

کابل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) افغانستان کے مختلف صوبوں میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 37 افراد ہلاک ہو گئے۔خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق افغانستان میں شدید بارشوں کے بعد دور دراز علاقوں میں خراب انفرااسٹرکچر کے نتیجے میں شدید نقصان پہنچا ہے اور اطلاعات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔صوبائی گورنر کے ترجمان جیلانی فرہاد نے بتایا کہ اتوار سے صوبہ ہرات میں آنے والے طاقتور سیلاب کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک ہو گئے۔صوبے کے کئی اضلاع میں ہزاروں ایکڑ کی فصل تباہ ہو گئی جبکہ مویشیوں کا بھی نقصان ہوا۔

جیلانی فرہاد کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ضلع ادرسکن ہوا جہاں چار بچوں اور ایک خاتون سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کی ہزاروں ایکڑ پر لگی فصل اور باغات تباہ ہو گئے جبکہ سیکڑوں مویشی بھی سیلاب کی نذر ہو گئے۔صوبائی انتظامیہ نے متاثرہ اضلاع میں صورتحال پر قابو پانے اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کردی ہے۔مغربی صوبے غور کے گورنر عبدالطاہر فائز زادہ کے مطابق سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر 6 بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں غور کے 163 مکانوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جبکہ 910 افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔افغانستان کی وزارت نیشنل ڈیزاسٹر کے ترجمان تمیم عاظمی نے کہا کہ ملک بھر کے مختلف صوبوں میں 405 خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے جبکہ کچھ جگہ سیلاب دریا بھر جانے کی وجہ سے آیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ شمالی صوبے ثمن گن میں 10 گاڑیاں سیلابی ریلے میں پھنس گئیں جبکہ تین افراد ہلاک بھی ہوئے۔

واضح رہے کہ افغانستان کے محکمہ موسمیات نے ملک کے 34 میں سے 15 صوبوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کی پیش گوئی کی تھی اور 10 سے 30 ملی میٹر بارش کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ 23 صوبوں میں کل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

افغانستان میں اس طرح کی قدرتی آفات اکثر آتی رہتی ہیں اور مئی 2014 میں ملک کے شمال مشرقی حصے میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 2ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔گزشتہ سال اگست میں سیلاب کے نتیجے میں 200 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد گھر تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button