
انصاف دلانے کے بدلے پولیس افسر نے خاتون کے ساتھ کی زبردستی راجستھان حکومت کاسخت ردعمل،کیامعطل
جے پور: (اردودنیا.اِن)رشوت میں جنسی تعلقات کا مطالبہ کرنے کے الزام میں راجستھان کے ایک پولیس افسر کوحکومت نے اس واقعے کے 24 گھنٹے کے اندرنوکری سے برخاست کردیا ہے۔ ریاست کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب کسی افسر کے خلاف فوری طور پر اس طرح کی سخت کارروائی کی گئی ہے۔برخاست پولیس افسر کیلاش بوہرہ ہے۔
سن 1996 میں پولیس فورس میں سب انسپکٹر کی حیثیت سے تعینات کیلاش بوہرہ کو دو سال قبل ہی راجستھان پولیس سروس میں ترقی دی گئی تھی۔ فی الحال بوہرہ کی پوسٹنگ اے سی پی خواتین کے خلاف مظالم ریسرچ یونٹ کے عہدے پر تھی۔
خاص بات یہ ہے کہ اس پولیس افسر کی ذمہ داری تھی کہ وہ خواتین پر مظالم کے واقعات کو روکیں لیکن اس نے اسی متاثرہ خاتون سے جنسی تعلق بطور رشوت مانگا جو اپنے ساتھ ہونے والے جرم کی شکایت لے کر آئی تھی۔آر پی ایس افسر کیلاش بوہرہ کی وردی پر پہلے بھی بہت سے داغ تھے لیکن اس کے بعد بھی انہیں جے پور میں ایک اہم عہدے پر تقرری دی گئی۔
کیلاش بوہرہ نے 30 سالہ متاثرہ کو 14 مارچ کو اتوار کی چھٹی پر جے پور کے علاقے گوپال پورہ میں واقع اپنے دفتر بلایا تھا۔ بوہرہ جانتے تھے کہ دفتر بند ہو گا کیونکہ یہ سرکاری چھٹی تھی۔وہ سادہ کپڑوں میں اپنی نجی کار میں آفس آیا اور تالے کھولے۔ جب وہ خاتون آئی تو اس نے کمرے کو بند کر کے زیادتی کی کوشش کی لیکن متاثرہ نے اس پورے معاملے کی معلومات اینٹی کرپشن بیورو کے عہدیداروں کو پہلے ہی دے دی تھی۔
جیسے ہی خبر کی تصدیق ہوئی بیورو ٹیم نے کیلاش بوہرہ کے دفتر پر چھاپہ مارا اور بوہرہ کو رنگے ہاتھوں زیادتی کرنے کی کوشش کرتے پکڑلیا۔ کیلاش بوہرہ کے بیورو کی ٹیم کو دیکھ کر ہوش اڑگئے۔



