
فرینڈلی پولیسنگ!ایک نوجوان پولیس مارپیٹ میں زخمی ‘ آٹو ڈرائیور پیر پڑنے پر مجبور
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کیا حیدرآباد اور تلنگانہ کی پولیس واقعی فرینڈلی پولیسنگ ہے ؟۔ یا پھر فرینڈلی پولیسنگ کی آڑ میں بے قصور اور معصوم نوجوانوں پر لاٹھیاں برساتی اور انہیں نشانہ بناتی ہے ۔ گذشتہ دو دنوں سے شہر میں اور بطور خاص پرانے شہر میں جو واقعات پیش آئے ہیں انہوں نے فرینڈلی پولیسنگ کی قلعی کھول دی ہے ۔ ایک طرف ریاست کے ڈائرکٹر جنرل پولیس اور خود کوتوال شہر عوام سے ہر مسئلہ میں تعاون طلب کرتے ہیں اور وقفہ وقفہ سے عوام کے تعاون کا اعتراف بھی کرتے ہیں لیکن دوسری طرف سٹی پولیس عوام کیلئے ویلن بنتی جا رہی ہے ۔
آج پرانے شہر کے بھوانی نگر میں پیش آئے واقعہ میں ایک پولیس کانسٹیبل نے غیر ضروری مستعدی کا مظاہرہ کرنے اور اپنے افسران اعلی سے شاباشی حاصل کرنے کی کوشش میں ایک نوجوان کو بے رحمی سے پیٹ کر زخمی کردیا ۔ تفصیلات کے بموجب بھوانی نگر پولیس اسٹیشن کے علاقہ محمد نگر میں مسجد بلال کے قریب کے ساکن نوجوان محمد اسلم اپنی گاڑی پر جا رہے تھے ۔
پولیس نے ان کی گاڑی روکی اور ان سے باز پرس کی جا رہی تھی ۔ محمد اسلم اپنے باہر نکلنے کی وجہ بیان ہی کر رہے تھے کہ ایک کانسٹیبل شیوا کمار نے اچانک بلا اشتعال محمد اسلم پر لاٹھیاں برسانا شروع کردیا ۔ کانسٹیبل شیوا کمار کی بے رحمانہ مار پیٹ سے محمد اسلم شدید زخمی ہوگیا ۔ اس کے چہرے اور آنکھ کے عین نیچے زخم آگیا ۔ اسلم نے اپنے ساتھیوں کو اطلاع دی اور راہ چلتے کچھ افراد بھی وہاں جمع ہوگئے اور پولیس کے رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ۔
اپنی غلطی کا مداوا کرنے کی بجائے پولیس نے ان تمام کو پولیس اسٹیشن کی سمت بڑھنے سے روکنے کی بھی کوشش کی اور کچھ دیر کیلئے گاڑیوں میں بھی بٹھالیا تھا ۔ تاہم اطلاع کے عام ہوتے ہی کچھ لوگ جمع ہوگئے اور پولیس اسٹیشن پہونچ کر انہوں نے کانسٹیبل شیوا کمار کے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔متعلقہ پولیس عہدیداروں نے عوام کی برہمی اور زخمی نوجوان کی تکلیف کو نظر انداز کردیا اور کانسٹیبل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔
یہ واقعہ سٹی پولیس کے بے رحمانہ رویہ کی مثال ہے ۔ اسی طرح کل بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک آٹو ڈرائیور کو ایک ٹریفک عہدیدار کے بیچ چوراہے پر پیر پڑھتے ہوئے دکھایا گیا تھا ۔ اس واقعہ میں بھی لاک ڈاون نرمی کا وقت ختم ہونے کے کچھ ہی منٹ بعد مدینہ بلڈنگ چوراہے پر ایک آٹو ڈرائیور کو روک کر اس کا آٹو چھین لیا گیا تھا ۔ آٹو ڈرائیور نے انتہائی منت سماجی کرتے ہوئے اسے گھر جانے کی اجازت دینے کو کہا تاہم پولیس عہدیدار نے اسے گالی گلوچ کی اور آٹو ضبط کرلیا ۔
آٹو ڈرائیور جو معمر دکھائی دے رہا تھا اس عہدیدار کے پیر پڑنے پر مجبور ہوگیا تب بھی اسے خاطر میں نہیں لایا گیا اور گالی گلوچ کرتے ہوئے وہاں سے روانہ کردیا گیا ۔ یہ دونوں واقعات پرانے شہر کے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ بطور خاص پرانے شہر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ایک طرف لاک ڈاون میں شہر میں قتل کی وارداتیں جاری ہیں اور پولیس ان کو روکنے میں ناکام ہے تو دوسری طرف معصوم نوجوانوں کونشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
ریاست کے ڈائرکٹر جنرل پولیس ایم مہیندر ریڈی اور کوتوال شہر ایم انجنی کمار عوام سے فرینڈلی پولیسنگ کی بات کرتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ فرینڈلی پولیسنگ کے نام پر عوام کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ گاڑیوں کے چالانات سے لے کر گاڑیوں کی ضبطی اور مار پیٹ سے تک گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ کیا کمشنر پولیس فرینڈلی پولیسنگ کے ڈی جی پی کے احکام پر عمل نہیں کر رہے ہیں یا پھر کمشنر پولیس کے فرینڈلی پولیسنگ کے احکام ماتحت عملہ کیلئے قابل قبول نہیں؟ ۔
سوال یہ ہے کہ پولیس عام کی مدد کیلئے ہے یا پھر انہیں نشانہ بنانے ہے ۔ عوام میں اور پولیس حلقوں میں یہ اندیشے بھی ظاہر کئے جا رہے ہیںکہ کہیں بہار لابی حکومت تلنگانہ کی شبیہہ کو عوام میں متاثر کرنے تو کوشاں نہیں ہے ؟ ۔ عوام میں یہ تاثر ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چونکہ پولیس کو ہائیکورٹ میں لاک ڈاون کے نفاذ پر جواب دینا پڑتا ہے شائد اسی لئے غیر ضروری مستعدی دکھا رہی ہے ۔
پڑوسی آندھرا پردیش میں بھی لاک ڈاون ہے لیکن چیف منسٹر اے پی جگن موہن ریڈی نے عوام سے مار پیٹ کرنے کے خلاف پولیس کو انتباہ دیا تھا اور کہا تھا کہ عوام کو غیر ضروری مار پیٹ کرنے والے پولیس عملہ کو معطل کردیا جائیگا۔اسی طرح کے اقدامات کی تلنگانہ میں بھی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔



