سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

تربیت اولاد کی ذمہ داری ماں باپ کی

تربیت اولاد کی ذمہ داری ماں باپ کی
محمد مصطفی علی سروری

حیدرآباد سنٹرل کرائم اسٹیشن نے سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کے الزام میں 38 سال کے ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔ 30؍ مارچ 2021ء کے اخبار دی ہندو میں شائع خبر کے مطابق شیخ محمود نام کے اس شخص نے 15 برانچس کے ساتھ ایک میاریج بیورو چلانے کا دعویٰ کرتے ہوئے لوگوں سے پیسے حاصل کیے۔ شیخ محمود نے اپنے سرمایہ کاروں کو اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی کہ اگر وہ میاریج بیورو کے اس کاروبار میں پیسہ لگاتے ہیں تو انہیں کروڑوں روپئے کا نفع ہوگا۔

اخباری رپورٹ کے مطابق 11مہینوں کے عرصے میں کثیرمنافع حاصل کرنے کی لالچ میں 60 سے زائد لوگوں نے شیخ محمود کو اپنا پیسہ دیا جس کو اس نے کئی گنا منافع کے ساتھ واپس کرنے کا بھی یقین دلایاتھا۔ پولیس کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے کہ جون 2020ء میں ہی شیخ محمود کے خلاف شکایت درج کروائی گئی تھی اور پولیس نے مارچ 2021ء میں اس شکایت پر کاروائی کرتے ہوئے مقدمہ بھی درج کرلیا اور بالآخر اس کو گرفتار کرلیا۔

قارئین مندرجہ بالا خبر سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ شادیوں کے لیے صرف رشتہ لگانے کا کام کس قدر تجارتی شکل اختیار کرگیا ہے کہ لوگ رشتہ طئے کروانے کے کام کو تجارت اور وہ بھی منافع بخش تجارت کی شکل دے چکے ہیں اور جب کوئی شادیوں کو طئے کروانے کے کاروبارمیں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہا ہے تو لوگ اس کاروبار میں لاکھوں کا سرمایہ لگاکر کروڑوں کا منافع کمانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ رشتے طئے کرواکر پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔

حالانکہ دین اسلام میں نکاح کو آسان کرنے کی ترغیب اور تعلیم دلوائی گئی ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ بے شک برکت کے لحاظ سے عظیم نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔ اس طرح کی بنیادی دینی تعلیم سے دوری اور غفلت کا نتیجہ کیا نکلا سب کے سامنے ہے۔ یہ ایسی تلخ حقیقت ہے کوئی اس کو دیکھنا نہیں چاہتا ہے اور امت مسلمہ کو اندر ہی اندر یہ بیماری ناسور کی طرح کھائے جارہی ہے۔

کیا غریب کیا امیر ہر کوئی نکاح کی تقاریب کو مہنگے سے مہنگا کرتا جارہاہے۔ آمدنی کم، بچت نہیں لیکن اپنی استطاعت سے ہزار گنا زائد پیسہ قرضوں کی شکل میں اور کئی مرتبہ تو سود پر حاصل کر کے شادی بیاہ پر خرچ کیا جارہا ہے اور جب اتنا سب کچھ کرنے کے بعد شادی اگر ٹوٹ جاتی ہے تو کیا ہوتا ہے ذرا غور سے آگے کے سطور پڑھ لیجئے۔

اسد خان اور امجد خان دونوں کا تعلق شہر حیدرآباد سے تھا اور دونوں آپس میں گہرے دوست بھی تھے۔ ان دونوں نے اپنی دوستی کو رشتہ داری میں بدلنے کا فیصلہ کیا اور پھر سال 2015ء کے دوران امجد خان کے بڑے بیٹے علی کی شادی اسد خاں کی بیٹی کے ساتھ ہوگئی۔ اب دونوں دوست ایک دوسرے کے سمدھی بن گئے۔ لیکن جلد ہی اس شادی شدہ جوڑے کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے اور یہ اختلافات اس قدر شدت اختیار کر گئے بالآخر امجد خان اور اسد کے درمیان جو رشتہ قائم ہوا تھا وہ ٹوٹ گیا۔

اسد خاں نے اپنی بچی کی شادی ٹوٹ جانے کے لیے امجد کو ذمہ دار قرار دیا اور امجد خان سے بدلہ لینے کے لیے اس کو قتل کردینے کا منصوبہ بنایا۔ اسد خاں نے بالآخر سال 2018ء میں اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر امجد خان کا قتل کرڈالا۔ پولیس نے اسد خان کو قتل کے الزام میں اس کے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کرکے پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا۔ اسد خاں نے تلنگانہ ہائیکورٹ سے رجوع ہوکر پی ڈی ایکٹ کے نفاذ کو چیلنج کیا اور عدالت سے ضمانت پر رہائی حاصل کرلی۔

ادھر جب امجد خان کے بیٹے یٰسین خان کو اپنے باپ کے قاتل کی رہائی کی اطلاع ملی تو اس نے یکم؍ اپریل 2021ء کو اپنے والد کے مبینہ قاتل اسد خان کو دن دھاڑے پر ہجوم سڑک پر بہیمانہ انداز میں قتل کردیا (بحوالہ اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹس کے مطبوعہ یکم ؍ اپریل اور 4؍ اپریل 2021)

ڈی سی پی شمس آباد این پرکاش ریڈی کے حوالے سے اخبارات نے لکھا کہ اسد خان کے قتل کے الزام میں جملہ 6 افراد کو گرفتار کیا گیا جس میں ایک 17 سالہ نابالغ بھی شامل ہے۔

پولیس نے قاتل یٰسین خان کے حوالے سے بتلایا کہ یٰسین خان اپنے والد کے قتل کا بدلہ تو لینا چاہتا تھا ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ اسد خان کے قتل سے اس کے گھر والوں کو پتہ لگے کہ وہ لوگ غریب ضرور ہیں لیکن اس کے باوجود وہ بدلہ لینے کی طاقت اور ہمت رکھتے ہیں۔

قارئین دوسری اہم بات جو نوٹ کی جانی چاہیے کہ یٰسین خان نے اسد خان کو قتل کرنے کے لیے جن پانچ لوگوں سے مدد حاصل کی وہ سب کے سب اس کے رشتہ دار ہیں اور انہی لوگوں میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ جو اب دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔قارئین آیئے ذرا ان واقعات کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کے اعادہ کو روکا جاسکے۔

مذہب اسلام میں نکاح کو ایک اہم سنت کا درجہ حاصل ہے۔ جہاں نکاح کی اہمیت کو اسلام نے واضح کیا ہے وہیں پر اس کے طریقۂ کار کی بھی مفصل وضاحت کردی گئی ہے۔ ویسے ہی طلاق کو بھی دین اسلام میں اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز قرار دیا گیا ہے۔ امت مسلمہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوگیا ہے کہ مسلمانوں کو نکاح کی سنت کو سنت کے طور پر سر انجام دینا مشکل ہوگیا اور جب مسلمان زر کثیر خرچ کرنے کے بعد شادی کررہاہے اور کسی وجہ سے شادی کا انجام طلاق تک پہنچ جائے تو وہ اس کو نقصان مان کر غصہ میں اپنے نقصان کی تلافی کرنے قتل جیسی واردات کا تک ارتکاب کر رہا ہے۔

صرف شہر حیدرآباد میں گذشتہ ایک مہینے کے دوران سر عام قتل کی جو وارداتیں پیش آئی ان میں قاتل اور مقتول دونوں کا تعلق مسلمانوں سے ہے اور اسد خان کا قتل بھی اسی طرح کی ایک واردات تھی۔ قارئین کرام کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ مسلمانوں میں اگر اس طرح کی برائیاں سرائیت کر گئی ہیں تو ان کو نظر انداز کردینا چاہیے۔ مسلمان اگر جرائم کی طرف راغب ہو رہا ہے تو اس کو بھی نظر انداز کردینا چاہیے۔ لیکن خبروں کی اشاعت روک دینا کسی طرح کا حل نہیں ہوسکتا ہے اور برائیاں ہر زمانہ میں رہی ہیں۔

یہ کہہ دینا بھی اطمینان بخش بات نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان واقعات کا یہ اسی طرح کے واقعات کا سدباب کیسے۔ اس کے لیے اقدامات ضروری ہے۔ہر مسلمان مرد وعورت کو دین اسلام کی تعلیمات سے واقف کروانا بہت ضروری ہے۔ امت مسلمہ اگر جسم واحد ہے تو اس کو اس طرح کے واقعات پر دکھ، تکلیف ہونا ضروری ہے اور جب دکھ تکلیف کا احساس ہوگا شائد تبھی اس کا علاج بھی ہوسکتا ہے۔

یہ صرف شادیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ تربیت کا مسئلہ ہے۔ 18؍ فروری 2021ء کو اندور سے خبر رساں ادارے ANI نے خبر دی کہ پولیس نے 20 سال کے فرحان نامی ایک مسلم نوجوان کو گرفتار کرلیا۔ اس نوجوان پر الزام ہے کہ اس نے اپنا نام بدل کر ایک نابالغ ہندو لڑکی کو اپنے ساتھ بھگاکر لے جانے اور شادی کرنے کی کوشش کی۔

(بحوالہ ANI ڈاٹ ان۔ 18؍ فروری 2021)
یہ تو فروری کی بات تھی اور اب ذرا اسی مہینے کی خبر ملاحظہ کریں جو کہ اندور شہر سے ہی موصول ہوئی ہے۔ اخبار نو بھارت ٹائمز کے نمائندے مُنیشور کمار نے 7؍ اپریل 2021 کو ایک خبر دی جس کے مطابق ایک 21 سالہ مسلمان لڑکی ایک ہندو لڑکے کے ساتھ بھاگ کر مندر میں شادی کرلیتی ہے۔ اور جب لڑکی کے گھر والے ان لوگوں کے پیچھے پڑتے ہیں تو یہ دونوں بھاگ کر صدر بازار پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوکر پولیس سے تحفظ مانگتے ہیں۔

دوسری طرف پولیس اسٹیشن کے باہر غیور مسلمانوں کا ایک ہجوم جمع ہوجاتاہے اور دوسرے فرقے کے لوگ بھی وہاں آجاتے ہیں اور میڈیا بھی وہاں پہنچ جاتا ہے۔ ایسے میں پولیس لڑکی کو جو برقعہ پہنے ہوئے ہے میڈیا کے روبرو پیش کرتی ہے۔ لڑکی میڈیا کے نمائندوں کے سامنے آکر کہتی ہے کہ ’’میری عمر 21 سال ہے، میں اپنی مرضی سے ہندو لڑکے ساتھ شادی کر کے رہنا چاہتی ہوں۔ میرے ماں باپ میرے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں۔ اگر وہ لوگ اور زبردستی کریں گے تو میں خودکشی کرلوں گی۔‘‘

قارئین لڑکا ہو یا لڑکی ان کی پیدائش کے بعد بحیثیت مسلمان ان کے کانوں میں اذان دینا جس قدر ضروری ہے اتنا ہی ضروری دین اسلام کی تعلیمات سے انہیں واقف کروانا بھی ہے۔ شادی ایک سنت ہے ۔جس طرح سنت کی فکر کی جاتی ہے اتنی ہی فکر بچوں کی تربیت کے متعلق بھی کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اولاد کی تربیت فرض ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کے لیے فکر کرنے والا بنادے اور اس کام میں ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرما۔ آمین۔یارب العالمین۔

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button