تلنگانہ ہائیکورٹ کا فیصلہ، اپیل کیلئے سزا پر عمل آوری 6 ہفتے تک نہیں ہوگی
تلنگانہ: (اردودنیا.اِن)تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کے مقدمات میں اعلیٰ عہدیداروں کو سزا اور جرمانہ عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین فیصلہ میں ہائی کورٹ نے دو عہدیداروں کو لینڈ ایکویزیشن سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل آوری نہ کرنے پر جیل کی سزا سنائی ہے۔
عدالتی احکامات سے جان بوجھ کر انحراف کرنے کیلئے دو کلکٹرس کے سرویس ریکارڈ میں منفی ریمارکس درج کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ سرکاری وکیل کی درخواست پر عدالت نے سزا کے احکامات کو چھ ہفتوں کیلئے ملتوی رکھا ہے تاکہ عہدیدار اپیل دائر کرسکیں۔
جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ نے سدی پیٹ کے بعض متاثرین کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔ درخواست گزاروں نے شکایت کی تھی کہ عہدیداروں نے ملنا ساگر ذخیرہ آب کی تعمیر کیلئے جبراً اراضی حاصل کرلی ہے ۔
کالیشورم پراجکٹ کے حصہ کے طور پر ذخیرہ آب تعمیر کیا جارہا ہے ۔ عدالت کے احکامات کے باوجود عہدیداروں نے اراضی کے حصول کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت نے حکومت اور ریونیو حکام کے رویہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کلکٹر سدی پیٹ پی وینکٹ رامی ریڈی کو تین ماہ کی جیل اور دو ہزار روپئے جرمانہ کی سزا سنائی ۔
عدالت نے کسانوں کو قانونی کارروائی کے اخراجات کے طور پر 25,000 روپئے ادا کرنے کی ہدایت دی۔ اسپیشل ڈپٹی کلکٹر کالیشورم لینڈ ایکویزیشن جئے چندرا ریڈی کو چار ماہ کی قید اور 2000 روپئے جرمانہ کے علاوہ کسانوں کو 50,000 روپئے ادا کرنے کی ہدایت دی۔ سرسلہ کے ضلع کلکٹر کرشنا بھاسکر جو اگست 2018 ء اور جون 2019 ء کے درمیان کلکٹر سدی پیٹ کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکے ہیں۔
عدالت نے ان پر 2000 روپئے کا جرمانہ عائد کیا ۔ 13 کسانوں نے درخواستیں داخل کرتے ہوئے عہدیداروں پر قواعد کی خلاف ورزی اور عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنے کی شکایت کی۔




