
برلن: (ایجنسیاں)جرمنی میں تعمیراتی کام کرنے والوں کو جب اچانک پانچ کوئنٹل کا ایک بم ملا تو علاقے کے تقریباً تین ہزار افراد کو اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقام پر پناہ لینا پڑا۔جرمنی میں پولیس حکام نے بتایا کہ ملک کے جنوبی شہر مین ہیم میں تعمیراتی ورکروں نے کام کے دوران دوسری عالمی جنگ کے دور کا ایک پانچ سو کلو گرام کا بم دریافت کیا۔
اتنا بڑا دھماکہ خیز ڈیوائس اسی علاقے میں سابقہ امریکی فوجی بیریک کے پاس سے ملا تھا جسے اسی دن حکام نے ناکارہ بنا دیا۔اس بم کی دریافت کے بعد حکام نے اس کے آس پاس نصف کلو میٹر کے دائرے میں رہنے والے تقریباً تین ہزار افراد کو ان کے گھروں سے باہر نکل جانے کو کہا تاکہ لوگ اس کے ناکار بنانے کے آپریشن کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہیں۔پولیس نے سب سے پہلے اس کے آس پاس کے اسکولوں کو خالی کرایا حالانکہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اس وقت مقامی اسکولوں میں صرف 25 ہی طلبا موجود تھے۔
بم کو ناکارہ بنانے اور اس کو یہاں سے ہٹانے کے آپریشن کے لیے تقریباً 150 پولیس حکام کو موقع پر مدد کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو نقل و حمل میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور مقامی سطح پر ٹریفک بھی بری طرح سے متاثر ہوا۔جمعرات کی شام کو پولیس حکام نے اعلان کیا کہ اس حوالے سے آپریشن مکمل طور پر کامیاب رہا ہے اور مقامی لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکتے ہیں۔جرمنی کے مختلف علاقوں میں عالمی جنگ کے دور کے ہتھیاروں اور بموں کا ملنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے،
خاص طور پر تعمیراتی کاموں کے دوران اکثر یہ دھماکہ خیز اشیا دریافت ہوتی رہتی ہیں۔اس برس 31 جنوری کو بھی مرکزی شہر کوٹینجین میں دوسری عالمی جنگ کے دور کا بھی ایک بڑا بم ملا تھا اور اس وقت بھی بم کے ناکارہ بنانے کے آپریشن کے دوران ہزاروں مقامی لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر جانا پڑا تھا۔ یہ تمام بم عالمی جنگ کے دوران امریکا نے جرمنی پر گرائے تھے جو وقتاً فوقتا ًملتے رہتے ہیں۔



