برلن: (ایجنسیاں) دور حاضر کے بڑے فلاسفروں میں شامل جرمن دانشور ڑْرگن ہابر ماس نے متحدہ عرب امارات میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے سبب شیخ زائد بک ایوارڈ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔جرمنی کے معروف فلسفی اور ماہر عمرانیات ژرگن ہابر ماس نے اتوار کے روز متحدہ عرب امارات میں انسانی حقوق کی تشویش کن صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے ’بک ایوارڈ‘ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے پہلے یہ انعام قبول کرنے کی بات کہی تھی، تاہم اتوار کے روز انہوں ایک بیان میں کہاکہ میں نے اس برس کے شیخ زائد بک ایوارڈ کو قبول کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ وہ ایک غلط فیصلہ تھا جسے میں نے اب درست کر لیا ہے۔ان کا یہ بیان مقامی میڈیا میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مزید کہاکہ جو ادارہ اس ایوارڈ سے سرفراز کرتا ہے اس کے ابو ظہبی میں وہاں کے موجودہ نظام سے قریبی تعلقات کے بارے میں میں پہلے بہت اچھی طرح سے آگاہ نہیں تھا۔
متحدہ عرب امارات کا یہ انعام دبئی پر 30 برس تک حکمرانی کرنے والے شیخ زائد بن النہیان کے نام پر ہے جو متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر تھے۔ 86 برس کی عمر میں ان کا سن 2004 میں انتقال ہو گیا تھا۔یہ ایوارڈ ہر برس ایسے فرد یا پبلشر کو دیا جاتا ہے جن کی ادب تاریخ اور فلسفہ جیسے میدان میں، تحریروں اور ترجموں سے، عرب شعور، ثقافت، ادبی اور معاشرتی زندگی کو معقول حد تک تقویت ملی ہو۔
جو بھی شخصیت اس سالانہ انعام سے سرفراز ہوتی ہے اسے نہ صرف ایک تمغہ بلکہ اس کے ساتھ ہی ایک ملین یواے ای درہم، یعنی تقریبا ًپونے تین لاکھ ڈالر کی رقم بھی دی جاتی ہے۔ژرگن ہابر ماس کو دو رحاضر میں جرمنی کا سب سے اہم فلسفی مانا جاتا ہے ،جو فرینکفرٹ یونیورسٹی میں شعبہ عمرانیات سے وابستہ ہیں۔
ان کی کئی تصانیف کا عربی زبان میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔متحدہ عرب امارات میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اکثر نکتہ چینی ہوتی رہی ہے۔ ملک کے حکمرانوں کی میڈیا پر سخت گرفت ہے اور اگر کوئی حکومت پر نکتہ چینی کرے تو اسے کھلے عام سزا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔



