بین الاقوامی خبریںسرورق

داعش کی رکن خاتون کی شہریت ختم کرنے پر جیسینڈا آرڈرن برہم

داعش کی رکن خاتون کی شہریت ختم کرنے پر جیسینڈا آرڈرن برہم

شہریت
ویلنٹن: (ایجنسیاں)نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے آسٹریلیا پر اس بات کے لیے سخت نکتہ چینی کی ہے کہ اس نے ایک خاتون کی داعش سے مبینہ وابستگی کی بنیاد پر ان کی شہریت ختم کردی، تاہم آسٹریلیا نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن نے منگل کے روز آسٹریلیا کی حکومت پر اس بات کے لیے سخت نکتہ چینی کہ اس نے یکطرفہ طور کارروائی کرتے ہوئے اس خاتون کی شہریت ختم کردی جن کو داعش کا رکن ہونے کے شبہ میں ترکی میں گرفتار کیا گیا ہے۔

مذکورہ خاتون کواس سے قبل نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا دونوں ملکوں کی شہریت حاصل تھی۔ وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا نے مذکورہ خاتون کی شہریت ختم کر کے اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کی کوشش کی ہے لیکن مذکورہ خاتون کو نیوزی لینڈ کے بجائے آسٹریلیا واپس بھیجنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بات غلط ہے کہ اس معاملے میں اس خاتون سے متعلق صورت حال کی تمام تر ذمہ داری نیوزی لینڈ پر ڈالی جائے جو چھ برس کی عمر کے بعد سے ہی نیوزی لینڈ میں نہیں رہ رہی تھیں

بلکہ آسٹریلیا میں اپنے پورے خاندان کے ساتھ مقیم تھیں اور آسٹریلیا کے پاسپورٹ پر ہی وہ شام گئی تھیں۔ کوئی بھی صحیح الدماغ شخص انہیں آسٹریلیا کا ہی شہری کہے گا اور میرا بھی یہی خیال ہے۔جسنڈا نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے میں اپنی تشویش سے آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن کو آگاہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے دوہری شہریت کے معاملات میں دونوں ملکوں کو مزید تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے اس موقف کے جواب میں آسٹریلوی وزیر اعظم موریسن نے کہا کہ مذکورہ خاتون کی شہریت خود بخود ختم ہوگئی اور ملک کی سلامتی کے مفاد کا خیال رکھنا ان کی پہلی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ہماری پارلیمان نے اس بارے میں جو قانون منظور کیا ہے اس کی رو سے اس طرح کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی شہریت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں محترمہ آرڈرن سے بات چیت کریں گے۔ ترکی میں حکام نے بتایا کہ نیوزی لینڈ کے تین شہریوں نے پیر 15 فروری کوشام کے راستے غیر قانونی طور پر ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کی، جن میں سے ایک شہری کے داعش سے رابطے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button