سرورققومی خبریں

حکومت اور کسانوں کے درمیان 11 ویں دور کے مذاکرات میں بھی نہیں نکلا کوئی حل

 حکومت اور کسانوں کے درمیان 11 ویں دور کے مذاکرات میں بھی نہیں نکلا کوئی حل

نئی دہلی،22جنوری (اردودنیا.ان) جمعہ کے روز حکومت اور کسانوں کے درمیان ہونے والے 11 ویں دورکی میٹنگ میں بھی اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکا کیونکہ کسان لیڈڑان تینوں نئے زرعی قوانین کی واپسی اور کم از کم سپورٹ قیمت (ایم ایس پی) قانون بنانے کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔ پچھلے 10 دور کے مذاکرات کے برعکس آج مذاکرات کے 11 ویں دور کے لئے اگلی میٹنگ کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ مرکز کے ذریعہ لائے گئے نئے زرعی قوانین کے خلاف لاکھوں کسان دہلی کی سرحدوں پر تقریبا دو ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کسان متعلقہ قوانین کسانوں کے خلاف اور کارپوریٹ گھرانے کے مفاد میں ہیں۔ حکومت نے آج اپنا مؤقف سخت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسان یونین قوانین کے تعطل کی تجویز پر بات کرنے پر راضی ہیںتو وہ پھر سے میٹنگ کے لئے تیار ہیں۔ ساتھ ہی کسان تنظیموں کا کہنا تھا کہ اب وہ اپنی تحریک کو تیز کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اجلاس کے دوران حکومت کا رویہ درست نہیں تھا۔

مرکز نے مذاکرات کے آخری دور میں قوانین کو معطل کرنے اور حل تلاش کرنے کے لئے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کی پیش کش کی تھی۔ کسان لیڈران نے آج کی میٹنگ کے بعد کہا کہ اگرچہ یہ میٹنگ پانچ گھنٹے تک جاری رہی لیکن دونوں فریقین بمشکل 30 منٹ تک آمنے سامنے بیٹھے۔

میٹنگ کے آغاز میں کسان لیڈران نے حکومت کو آگاہ کیا کہ انہوں نے بدھ کے روزہوئی میٹنگ میں حکومت کی پیش کردہ تجویز کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر سمیت تینوں مرکزی وزراء نے کسان یونینوں کے نمائندوں سے اپنے موقف پر نظر ثانی کرنے کو کہا، جس کے بعد دونوں فریق دوپہر کے کھانے پر چلے گئے۔ کسان لیڈران نے اپنے لنگر میں کھانا کھایا جو تین گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔

دوپہر کے کھانے کے وقفے کے دوران 41 کسان لیڈران نے چھوٹے گروپوں میں تبادلہ خیال کیا، جبکہ تینوں مرکزی وزراء نے وگیان بھون میں ایک علیحدہ چیمبر میں انتظار کیا۔ اس ملاقات کے بعد بھارتیہ کسان یونین (اُگراہن) کے لیڈر جوگندر سنگھ اُگراہن نے کہا کہ اتحادیوں نے حکومت کی تجویز کو مسترد کرتے ہی یہ مذاکرات ختم گئے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button