

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)دہلی فسادات کے متاثرین کو معاوضے کے لئے دوبارہ درخواست دینے کا موقع ملے گا ۔ جن درخواستوں کو مسترد کردیا گیا ہے،یا دعوے سے کم معاوضہ موصول ہوا ہے ان تمام امور میں فیزیکلی ویری فیکشن( جسمانی تصدیق) کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔
یہ سفارشات دہلی قانون ساز اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی نے دہلی فسادات سے متاثرہ افراد کے معاوضے سے متعلق جائزہ رپورٹ میں دی ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے دہلی اسمبلی بجٹ اجلاس کے دوران اس رپورٹ کو ایوان کے فلور پر پیش کیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ایسے فسادات سے متاثرہ افراد کو معاوضے کے لئے دوبارہ درخواست دیں ،
جنہوں نے ایک بار بھی درخواست نہیں دی ہے ،یا دعووے کے مطابق کم رقم ملی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ فساد کی وجہ سے لوگ خوفزدہ ہیں، ذہنی طور پر بھی تناؤمیں تھے، اس کے بعد وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے درخواست نہیں دے سکے تھے ،
ایسے لوگوں کو دوبارہ موقع ملنا چاہئے۔کمیٹی نے متاثرہ افراد کے معاوضے میں تخفیف کی بات بھی کہی ہے ۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کئی امور میں نقصان سے نہایت ہی قلیل معاوضہ دیا گیا۔ کمیٹی نے ایک کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس فساد میں ایک شخص کا دایاں ہاتھ ضائع ہو گیا ،
اس کے ساتھ ہی اس کے بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں کاٹی گئیں۔ کم چوٹ بتاکر متاثرہ شخص کو محض 20 ہزار روپے ہی معاوضہ دیا گیا۔ ایک اور معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ ایک شخص کی ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی، لیکن اسے بھی شدید چوٹ کے زمرے میں قرار دیا گیا ہے،لیکن حقیقت میں یہ معاملہ معذور کے زمرے میں آتا ہے۔کمیٹی نے اس طرح کے کئی معاملے کی ازسرنو جائزہ لینے پر سنجیدگی سے غور کی ا پیل کی ہے۔
دہلی اسمبلی کی فلاح و بہبود کی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے کہا کہ جنوری 2021 تک فسادات کے مجموعی طور پر 3425 افراد نے شمال مشرقی دہلی میں درخواست دی تھی ، جن میں سے صرف 2121 افراد کو جنوری 2021 تک معاوضہ ملا ہے۔ بطور معاوضہ 26.09 کروڑ روپے تقسیم کئے گئے ہیں ۔
کل درخواستوں میں سے 1179 درخواست کو فرضی بتاکر مسترد کیا گیا ہے ،یا کاغذ مکمل نہ ہونے کی صورت میں مسترد کیا جاچکا ہے۔ کمیٹی نے دوبارہ توثیق کروانے کے لئے ایم ایل اے ، افسران اور وقف بورڈ کے ممبروں کی مشترکہ کمیٹی بنا کر ایسے معاملات کی جسمانی تحقیقات (فیزیکلی ویری فیکشن)کی سفارش کی ہے۔



