راجستھان : 5 سال کی بچی کے ساتھ عصمت دری 26 دن کے اندر 20 سال کے درندے کوملی پھانسی کی سزا
جے پور: (اردودنیا.اِن)راجستھان کے ضلع جھنجنو کی خصوصی پاکسو عدالت نے5 سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری کرنے کے جرم میں 20 سال کے سنیل کمار کو مجرم قراردیتے ہوئے اسے سزائے موت سنائی ہے۔ ضلع جھنجو کے پلانی میں بچی کو 19فروری کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پولیس نے تحقیقات کی اور واقعے کے صرف نو دن میں ہی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی اور اس کیس میں 40 گواہ جمع کرنے کے بعد ملزم کو محض 26 دن میں سزادلوادی۔
انسپکٹر جنرل پولیس ہواسنگھ گھماریہ نے بتایا کہ 19 فروری کی شام کو بچی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیت میں کھیل رہی تھی۔ اسی درمیان اسکوٹی پرآئے کمارنے اسے اغوا کرلیا۔ معصوم بہن بھائیوں نے بھی اس کا پیچھا کیا، لیکن وہ اسے پکڑ نہیں سکے۔ لڑکی رات کے وقت ایک ویران جگہ پر خونی حالت میں پائی گئی۔ اس واقعے کے پانچ گھنٹے بعد پولیس نے شاہ پور کے رہائشی کمار کو گرفتار کرلیا۔
گھمریا نے کہا کہ اس معاملے میں 40 سے زائد گواہ جمع کئے گئے اور ساتھ ہی 250 کے قریب دستاویزات بطور ثبوت پیش کئے گئے۔ پولیس نے اس معاملے میں روزانہ 12 سے 13 گھنٹے کام کیا اور چارج شیٹ دائر کی۔ پوکسو ایکٹ کے لاگوہونے کے بعدکسی لڑکی سے زیادتی کے الزام میں کسی فرد کو سزا سنانے کا ضلع میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔ تین سال قبل ایسے ہی ایک معاملے میں سزا یافتہ ونود کمار کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔پاکسو عدالت کے خصوصی سرکاری وکیل لوکیندر سنگھ شیخوات نے کہا کہ عدالت نے جیل انتظامیہ سے مجرموں کو مذہبی اور محرک کتابیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمار نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ جرم کی وجہ نشہ ہے، لیکن عدالت نے اس دلیل کونہیں مانا، کیونکہ اس نے تقریبا 40 کلومیٹر اسکوٹی چلائی تھی اور اس نے بچی کو چاکلیٹ اور چپس بھی دی تھی۔ ایسی صورتحال میں وہ ہوش میں تھا۔ عدالت میں اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ نشے کے علاوہ فحش ویڈیوز بھی دیکھتا تھا، جسے عدالت سنجیدہ مانا۔ عدالت نے ثبوت اور گواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مجرم کو سزائے موت سنائی۔




