ممبئی: (سید یوسف ) ممبئی میں ونچیت بہوجن آگھاڑی کے مسلم قائدین اور کارکنان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔نئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک مسلسل کئی دنوں سے جاری ہے۔ جس کو مختلف حلقوں کی جانب سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔
گزشتہ دنوں ونچیت بہوجن آگھاڑی کی جانب سے کسانوں کی حمایت میں ریاست کے کئی اضلاع میں مظاہرے منعقد کئے گئے۔ اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے جمعہ کو مسلم تنظیموں کی جانب سے اعلان کردہ یک روزہ علامتی کسان باغ کی حمایت کرتے ہوئے کسانوں کے حق میں اظہار یکجہتی کرنے کے لئے شاہین باغ کی طرز پر’کسان باغ‘ احتجاجی مہم کی شروعات کرنے کا اعلان ونجیت بہوجن آگھاڑی کے قومی صدر ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر نے کیاہے،وہ جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں فرقہ پرستوں نے ہجمومی تشدد کر سینکڑوں مسلمانوں کو زدو کوب کا نشانہ بنایا، انھیں فرقہ ور عناصرنے ذات پات کی بنیاد پر ہزاروں دلتوں پر ظلم کیااور اسی استحصالی نظام نے لاکھوں کسانوں پر اتنا ظلم ڈھایا کے کسانوں کو خود کشی کرنے پر مجبور ہونا پڑا، اس کو ہم سرکاری قتل و غارت گیری مانتے ہیں۔کسان اس ملک میں سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کے جس طرح سے شاہین باغ کی تحریک کو مرکزی حکومت طاقت اور اقتدار کے دم پر ختم کرنا چاہتی تھی اور اس وقت پنجاب کے مختلف حصوں سے آکر ان کسانوں نے شاہین باغ کے پاس اپنالنگر ڈالا اور مسلمانوں کو طاقت اور حوصلہ دینے کا کام کیا۔
اسی طرز پر اب یہ موقع مسلمانوں کو بھی ملا ہے کے وہ پنجاب کے کسان بھائیوں کی مدد کو آگے بڑھتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے اپنے اپنے شہروں میں کسان باغ تحریک کا آغاز کریں۔ مسلمانوں کی طرح کسان بھی مظلوم ہیں اور ان مظلومین کے مابین اتحاد، ملک میں امن کی بقاء اور سالمیت کے لئے اشد ضروری ہوگیا ہے۔
آر۔ایس۔ ایس یہ نہیں چاہتی کے مظلومین ایک جگہہ آئے، یہی وجہہ ہے کے وہ آئے دن مسلمانوں اور دیگر طبقات کے درمیان تنازعات پیدا کرنے کا کام کرتی ہے۔ مظلومین کو بانٹ کر ان پر ظلم کرناچاہتی ہے۔ اس لئے وقت کی ضرورت یہی ہے کے کسان باغ میں بڑھ چڑھ کر مسلمانوں نے حصہ لینا چاہیے اور اس ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے اور آر ایس ایس جیسی تنظیم کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے تمام مظلومین میں اتحاد ہونا ضروری ہے۔
اس اجلاس میں ونچیت بہوجن آگھاڑی کے قومی نائب صدر ڈاکٹر ارون ساونت، شعبہ خواتین کی ریاستی صدر ریکھاتائی ٹھاکور،ریاستی ترجمان فاروق احمد، گوونددلوی،سدھارتھ موکلے، دشا پنکی شیخ،واشم منگرول پیر کی چیرمین ڈاکٹر غزالہ خان، پربھنی کے ضلع صدر عالمگیر خان ،ونچیت بہوجن آگھاڑی کے لوک سبھا اور اسمبلی کے امیدواران، ضلع صدور کے ہمراہ مہاراشٹرا کے جلگاوٰں،اکولہ، اورنگ آباد ،لاتور، عثمان آباد ،بیڑ،ناسک ،ناندیڑ ،پونہ، واشم، امراوتی، پربھنی، بلڈانہ، کولہاپور، احمد نگر، ستارا، پال گھر، نئی ممبئی، بیلاپور، میرابھئیندر،تھانہ، ممبرا، اور ممبئی کے گوونڈی ، سائن ،دھاراوی، کاندیولی، بھائیکلہ، ورلی، کرلا، اور گھاٹکوپر حلقوں سے سینکڑوں مسلم کارکنان اور
قائدین موجود تھے




