بین ریاستی خبریںسرورق

عشرت جہاں انکاؤنٹر: احمد آباد کی سی بی آئی عدالت نے کرائم برانچ کے 3 افسران کو الزام سے کیا بری

احمد آباد :(اردودنیا.اِن)گجرات کے مشہور عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس Ishrat-Jahan-encounter Ahmedabad CBI court acquits 3 crime branch officers میں سی بی آئی عدالت نے کرائم برانچ کے دو سابق عہدیداروں گیریش سنگھل ، ترون باروٹ اور موجودہ ایس آئی انوجا چودھری کو بری کردیا۔ عدلیہ کے مطابق عشرت جہاں لشکر طیبہ سے تعلقات تھے، اس انٹیلی جنس رپورٹ کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے ، لہٰذا ان تینوں افسروں کو بے گناہ سے بری کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ2004 کے بعد گجرات حکومت نے عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس میں آئی پی ایس جی ایل سنگھل ، ریٹائرڈ ڈی ایس پی ترون باروٹ اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر اناجو چوہدری کیخلاف کارروائی سے انکار کردیا۔ اسی معاملہ میں دائر درخواست پر بدھ کے روز سماعت ہوئی۔ اس معاملہ میں عدالت نے کہا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ عشرت جہاں کے لشکرطیبہ سے تعلقات تھے ،

کرائم برانچ کے عہدیداروں نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔ خیال رہے کہ15 جون2004 کو ، عشرت جہاں ، جاوید شیخ ، امجد رام اور ذیشان جوہر احمد آباد میں کوتر پور واٹر ورکس کے قریب پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے، جسے فرضی ا نکاؤنٹر قرار دیا جاتا ہے۔

انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق یہ تمام دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ تھے، اوررپورٹ کے مطابق اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے قتل کی غرض سے آئے تھے۔ عشرت جہاں کی والدہ شمیمہ کوثر اور جاوید کے والد گوپی ناتھ پلئی نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی،

تاکہ اس معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کی جائیں۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے معاملہ کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ اس معاملہ میں متعدد پولیس افسران کو گرفتار کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button