بین ریاستی خبریں

لفظ’ نیتا‘ اب بدنام ہوگیا:یوگی

دوران

لکھنؤ: (اردودنیا.اِن)اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاستی مقننہ کے بجٹ اجلاس میں گورنر کے خطاب کے دوران حزب اختلاف کے رویہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ’نیتا‘ جیسے معزز الفاظ اب توہین آمیز نظر آتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے جمعرات کوقانون ساز کونسل سے گورنر کے خطاب پر گفتگو کاجواب دیتے ہوئے 18 فروری کو خطاب کے دوران حزب اختلاف کے رویہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اچھی چیزیں قبول کی جاتی ہیں اور بری چیزیں چھوڑی جاتی ہیں ،

لیکن یہاں الٹا دیکھنے کے لیے مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ جمہوریت کے لیے یہ اچھی علامت نہیں ہے۔ اس سے ہمارے قائدین اورکارکنان ساکھ کے بحران سے گزر رہے ہیں۔ اسی لیے لوگ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایس پی ممبر نریش اتم نے اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ اسے بار بار ٹھیک کردیں گے ،

خوراک کے بارے میں بات کریں گے۔ وزیر اعلی خود یوگی ہیں۔ انہیں اس قسم کی زبان نہیں بولنی چاہیے۔

ایس پی ممبران اس معاملے پر سخت ناراض ہوئے۔ یوگی نے ایس پی ممبروں کو آداب سیکھنے کی تاکید کی اور کہاہے کہ جس زبان کوجوسمجھے گا ، اس کا جواب اسی زبان میں دیا جائے گا۔اس دوران ایس پی ممبران نے کھڑے ہوکر احتجاج کیا ، تب چیئرمین کنور مانویندر سنگھ نے مداخلت کی اور انہیں بیٹھ کروزیراعلیٰ کی بات سننے کو کہا۔

یوگی نے کہاہے کہ آزادی سے پہلے ، لفظ ’نیتا‘ احترام کی علامت تھا ۔زادی کے بعد ایسی صورتحال کیوں پیدا ہوئی کہ آج وہی لفظ توہین آمیز معلوم ہونے لگا؟یوگی نے اپوزیشن خصوصاََ ایس پی ممبران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر (احمد حسن) کے سوا ، ان کے دیگراتحادیوں سے زیادہ امید نہیں ہے۔ خواتین کی توہین کرنے کی بھی ان کی ایک لمبی تاریخ ہے۔

ریاستی گیسٹ ہاؤس اسکینڈل کون نہیں جانتا ہے۔ ان لوگوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو سب جانتے ہیں کہ کتنی حرکتیں ہوئیں ، لیکن کم از کم ان چیزوں کوگھر کے اندر ہی رکھیں۔ وزیراعلیٰ نے عالمی وبائی مرض کوویڈ 19 کے دوران ہندوستان میں انفیکشن کے خلاف جنگ کاسہراوزیراعظم نریندر مودی کو دیا اور کہاہے کہ قیادت کس طرح تبدیل ہوتی ہے ، پھر ملک کی تقدیر بدل جاتی ہے۔

یوگی نے کہاہے کہ کسی کو بھی اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ بادشاہ اپنے وقت کے حالات پیدا کرتا ہے ، اس کے زمانے کی نوعیت کاتعین کرتا ہے۔جب کہ اچانک لاک ڈائون کے نتیجے میں کروڑوں لوگ بے روزگارہوگئے۔غریب بدحال ہوگئے۔مزدوروں کی حالت اچھی نہیں ہے۔

مہنگائی نے الگ قہربرپاکردیاہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پانچ ہزار سال پہلے کہی گئی یہ باتیں پچھلے چھ سالوں کے دوران ضرور دیکھی ہوں گی کہ عالمی سطح پر ہندوستان کی تصویر کو نئی بلندیوں پر لے جانے کاکام کس طرح ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button