نئی دہلی:(ایجنسیاں)اتر پردیش میں لو جہاد قانون کے پس پشت اقلیتی طبقہ پر ظلم کی انتہا بڑھتی جا رہی ہے اور بی جے پی حکمراں کچھ دیگر ریاستوں میں اس طرح کا قانون نافذ ہو چکا ہے یا پھر نافذ کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ اس درمیان سپریم کورٹ نے اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں نافذ لو جہاد قانون یعنی جبری مذہب تبدیلی قانون کے ا?ئینی جواز کی جانچ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ لو جہاد قانون کے خلاف داخل عرضیوں کو منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اتر پردیش اور اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس بھی جاری کر دیا ہے اور 4 ہفتے کے اندر اس کا جواب طلب کیا ہے۔دراصل اتر پردیش میں جبری مذہب تبدیلی سے متعلق ابھی صرف ا?رڈیننس منظور ہوا ہے اور اتراکھنڈ میں یہ 2018 میں قانون بن چکا ہے۔
ان دونوں ریاستوں میں لو جہاد قانون کے تحت اگر کوئی شخص کسی کو لانچ دے کر، بہلا پھسلا کر یا ڈرا دھمکا کر مذہب تبدیل کرنے کو مجبور کرتا ہے تو اسے پانچ سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس قانون کا سہارا لے کر کئی مسلم خاندانوں کو ہراساں کیے جانے کی خبریں سامنے ا? چکی ہیں۔ خصوصی طور پر اتر پردیش کی یوگی حکومت میں کئی ایسے معاملے سامنے لائے ہیں جس میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری ہوئی، اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ بے قصور تھے۔
اسی طرح کے معاملوں کو دیکھتے ہوئے کچھ سماجی کارکنان اور تنظیموں نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر لو جہاد قانون کو چیلنج پیش کیا ہے۔آج ہوئی سماعت کے دوران عرضی دہندگان کے وکلاء نے لو جہاد قانون کے ضابطوں پر روک لگانے کا مطالبہ بھی کیا، لیکن سپریم کورٹ نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بغیر حکومت کا نظریہ جانے یہ مناسب نہیں ہوگا۔سپریم کورٹ میں وکیل وشال ٹھاکرے اور سٹیزنس فار جسٹس اینڈ پیس نامی این جی او کے علاوہ کچھ دیگر لوگوں نے بھی عرضیاں داخل کی ہیں۔ دو مختلف عرضیوں کے حوالے سے اتر پردیش اور اتراکھنڈ حکومت کو سپریم کورٹ نے نوٹس بھیج کر ان سے لو جہاد قانون کے متعلق وضاحت طلب کی ہے۔
عرضی دہندگان کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعہ پولس اور حکومت محبت کرنے والے لوگوں اور اپنے ماں باپ کی مرضی کے بغیر شادی کرنے والوں کو پریشان کر رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ صرف اقلیتوں کو ہی ہدف بنایا جا رہا ہے۔