قومی خبریں

لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا ہم ریٹائرڈ جج کوتحقیقات کی نگرانی کے لیے مقرر کریں گے

شاید دونوں ایف آئی آر کے درمیان دوری بنائے رکھنے میں ناکام ہے ایس آئی ٹی:لکھیم پور تشدد کیس پر سپریم کورٹ

نئی دہلی ،08؍ نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ میں لکھیم پور کھیری تشدد کیس کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔ سی جے آئی این وی رمنا، جسٹس سوریا کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ اس کی سماعت کر رہی ہے۔سماعت کے دوران سی جے آئی نے کہاکہ یوپی پولیس کی اسٹیٹس رپورٹ میں کچھ نہیں ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ کچھ اور لوگ گواہی دے رہے ہیں۔ ہم نے آپ کو مزید وقت دیاتھا۔

دیگر مسائل پر کیا ہوا، موبائل ٹاور سے موبائل ڈیٹا کا کیا ہوا؟دراصل یوپی حکومت نے سپریم کورٹ میں نئی اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے۔ عدالت نے اس پر یوپی پولس پر سوال اٹھائے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسٹیٹس رپورٹ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جس کی ہم توقع کر رہے تھے اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم تحقیقات کی نگرانی کے لیے کسی اور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو مقرر کریں گے۔

سپریم کورٹ نے پوچھا ’’صرف ملزم آشیش مشرا کا ہی موبائل ملا؟ باقی ملزمان کے موبائلز کا کیا ہوا؟ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نے 10 دن کا وقت دیا ہے، لیب کی رپورٹ بھی نہیں آئی ہے۔یوپی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ ہریش سالوے نے کہاکہ ہم لیب سے رابطہ کر رہے ہیں۔

سی جے آئی سیل ٹاور کے ذریعے آپ شناخت کر سکتے ہیں کہ علاقے میں کون سے موبائل فعال تھے، کیا دیگر ملزمان موبائل فون استعمال نہیں کر رہے تھے؟جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ ہمیں یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ ایک خاص ملزم کو 2 ایف آئی آرکواوور لیپ کر کے فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

ہریش سالوے نے کہا کہ عینی شاہد گواہ ہیں۔ اس بات کے پختہ شواہد موجود ہیں کہ یہ ملزمان جائے حادثہ پر موجود تھے، سی سی ٹی وی فوٹیج سے واضح ہوتا ہے، ہم نے گواہوں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلایا ہے۔سی جے آئی نے کہاکہ آپ کو تفتیش کرنی ہوگی۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ اب کہا جا رہا ہے کہ دو ایف آئی آر ہیں۔

ایک ایف آئی آر میں جمع کئے گئے شواہد کو دوسری ایف آئی آر میں استعمال کیا جائے گا۔ ایک ملزم کو بچانے کے لیے ایک طرح سے دوسری ایف آئی آر میں شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دونوں ایف آئی آر کی الگ الگ جانچ ہونی چاہیے۔ اس پر سالوے نے کہا کہ الگ سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ایک کسانوں کے قتل کا معاملہ ہے اور دوسرا صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کا، گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں جو اہم ملزم کے حق میں لگ رہے ہیں۔ ہریش سالوے نے کہا کہ اگر کوئی سامنے آکر کہے کہ اس کا بیان ریکارڈ کیا جائے تو ہمیں ایسا کرنا ہوگا۔

اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ یہ الگ بات ہے آپ کچھ لوگوں کو پہچاننے کی کوشش کریں اور پھر بیان ریکارڈ کریں ۔دونوں ایف آئی آرز کی الگ الگ تفتیش ہونی چاہیے۔الگ الگ چارج شیٹ داخل کی جانی چاہئے، ریٹائرڈ جج اس کی نگرانی کریں۔

سپریم کورٹ نے یوپی کو سچ بتاتے ہوئے کہاکہ ہمیں لگتا ہے کہ ایس آئی ٹی دو ایف آئی آر کے درمیان فاصلہ برقرار رکھنے میں ناکام ہے۔ کوئی اوور لیپنگ یا آپس میں ربط نہیں ہونا چاہیے، ہم نہیں چاہتے کہ آپ کا جوڈیشل کمیشن بنارہے، اس سے اعتماد برقرار نہیں رہ سکتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button