مبینہ سیکس سی ڈی معاملہ
نئی دہلی: ( اردودنیا.اِن) چھتیس گڑھ کے مبینہ سیکس سی ڈی کیس میں ملزم کے مطالبہ پر سپریم کورٹ نے چھتیس گڑھ حکومت کو اس معاملے میں فریق بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں مرکزی تحقیقاتی ایجنسی کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی گئی ہے۔ اگلی سماعت 5 مارچ کو ہوگی۔
اب چھتیس گڑھ حکومت بھی فریق ، سی بی آئی کیس منتقل کرنے کی خواہاں
واضح رہے کہ سی بی آئی نے اس معاملے کو چھتیس گڑھ سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ ملزم شخص وزیر اعلی کا مشیر رہا ہے۔ موجودہ سی ایم بھوپیش بگھیل پر بھی اس معاملے میں سازش کا الزام ہے۔واضح رہے کہ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے چھتیس گڑھ کے مشہور فحش سی ڈی معاملے کی سماعت ریاست سے باہر کرانے کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
اس معاملے میں اس وقت کے کانگریس صدر اور موجودہ وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل پر بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔2017 میں چھتیس گڑھ میں ایک فحش سی ڈی تیزی سے وائرل ہوئی۔ یہ ویڈیو مبینہ طور پر اس وقت کے ایک وزیر کی بتائی گئی ، 27 اکتوبر 2017 کو ایک مبینہ جنسی ٹیپ وائرل ہوا تھا ، جس میں اس وقت کی رمن حکومت کے وزیر کا نام سامنے آیا تھا۔ بعد میں صحافی ونود ورما کو اس معاملے میں دہلی سے گرفتار کیا گیا تھا۔
بی جے پی نے کانگریس قائدین پر مبینہ سیکس سی ڈی تقسیم کرنے کا الزام عائد کیاتھا۔ سی ڈی اسکینڈل میں ملزم ونود ورما کے ساتھ ساتھ بھوپیش بگھیل کے خلاف رائے پور میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔اس وقت کی حکومت نے سارا معاملہ سی بی آئی کے حوالے کیا تھا۔
چیف منسٹر کے سیاسی مشیر ونود ورما ، بزنس مین وجے بھاٹیا ، کیلاش مرارکا اور رنکو کھنوجا سمیت دیگر لوگوں پر بھی سی بی آئی نے الزام لگایا ہے۔ اسی وجہ سے سی بی آئی چاہتی ہے کہ اس معاملے میں سماعت چھتیس گڑھ سے باہر ہو۔



