
تلنگانہ: (اردودنیا.اِن)امتہ الحمیدہ کی عمر 34 سال ہے، وہ صبح 10 بجے سے آدھی رات تک حیدرآباد کی سڑکوں پر ڈرائیونگ میں سرگرم عمل ہونے کی توانائی رکھتی ہیں۔ ملئے اس شی کیاب ڈرائیور سے جنہیں ایرپورٹ پر متعین کیا گیا ہے اور وہ خاتون مسافرین کو ان کی منزل تک پہنچاتی ہیں۔ خواہ بارش ہو یا شام کی دیری ہو۔
ان کا چہرہ ایک سفید لیس اسکارف میں ہوتا ہے۔ وہ گزشتہ 6 سال سے کیاب چلا رہی ہیں۔ 9 سالہ لڑکی کی اس ماں نے کہا کہ ’’اس جاب کیلئے آر ٹی اے کی جانب سے 50 خواتین میں میرا انتخاب کیا گیا۔
مجھے اس بات پر بہت فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں برسوں سے یہ کام کررہی ہوں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا اقلیتی کمیونٹی کی واحد خاتون کیاب ڈرائیور ہونے کی وجہ ان کے ساتھ کچھ الگ برتاؤ کیا جاتا ہے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ نہیں۔ ایسا نہیں ہوا ہے۔ تمام خاتون مسافرین واقعی میرے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
حیدر گوڑہ کی ساکن شی کیاب ڈرائیور نے کہا کہ انہوں نے ان کے والد کے گھر پر ڈرائیونگ سیکھی ہے۔ ’’میرے والد کے پاس ایک اسٹیم تھی اور میں نے شوفر سے ڈرائیونگ سیکھی ہے۔ میری شادی ہونے کے بعد یہ مہارت مالی مشکلات پر قابو پانے میں میرے لئے مددگار ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کی شیرخوار بچی کو ان کی رائیڈس کے ساتھ لے جایا کرتی تھیں، تاہم وہ نہیں چاہتی کہ ان کی بیٹی اس پروفیشن کا انتخاب کرے۔
مجھے اس بات کا یقین نہیں ہے کہ میری بیٹی کو جب اس کی اپنی فیملی ہوگی، اس طرح کی سپورٹ حاصل ہوگی‘‘۔ امتہ الحمیدہ کی پہلی مسافر ایک جرنلسٹ تھی جس نے ایک آڈیو ۔ ویژول میڈیا پلیٹ فارم کیلئے ان کا انٹرویو لیا تھا۔ اوسطاً انہیں روزانہ 7 تا 8 مسافرین ملتے ہیں۔ ان کی بکنگس RGIA کے دفتر میں پری پیڈ ٹیکسی بوتھ پر کی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ سب ٹھیک معلوم ہوتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو شی کیاب ڈرائیورس کی بہتری کیلئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم کو فینانس، پالیسیز وغیرہ کے معاملے میں مزید بیاکنگ کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کو گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کیلئے مقرر کیا گیا تو بہت اچھا ہوگا، کیونکہ اس سے ہمارے کیریئر کیلئے اطمینان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کا کام بری طرح متاثر ہوا کیونکہ ایرپورٹس بند تھے اور تمام فلائیٹس رُک گئی تھیں۔



