بین ریاستی خبریں

مختار انصاری کو یوپی میں انکاؤنٹر کا خدشہ ہے ، معاملہ دہلی منتقل کیا جائے :مکول روہتگی

مختار انصاری کو یوپی میں انکاؤنٹر کا خدشہ ہے ، معاملہ دہلی منتقل کیا جائے :مکول روہتگی

سپریم کورٹ میں یوپی- پنجاب حکومت آمنے سامنے 

لکھنؤ: (اردودنیا.اِن)اتر پردیش اور پنجاب حکومت کے درمیان رہنما مختار انصاری کے تعلق سے آپس میں تلخیاں ہیں ، بلکہ عدالت کے اندر بھی مڈبھیڑ جاری ہے۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ میں مختار انصاری کو یوپی بھیجنے والی درخواست کی سماعت ہوئی۔ اس دوران مختار کے وکیل مکول روہتگی نے مطالبہ کیا کہ یوپی میں درج تمام مقدمات کو یوپی سے باہر منتقل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مختار انصاری 5 بار سے ایم ایل اے ہیں۔ یوپی پولیس لوگوں کا جعلی انکاؤنٹر کررہی ہے۔ اس کے ساتھی مننا بجرنگی کو جیل میں ہی قتل کردیا گیاتھا؛ اس لئے ان کی جان کو بھی خطرہ ہے۔ کرشنانند رائے قتل کیس کی سماعت دہلی منتقل کردی گئی، لہٰذا پنجاب کا معاملہ بھی دہلی منتقل کیا جانا چاہئے۔ اس پر جسٹس بھوشن نے کہا کہ ہم آپ کے مطالبے پر غور کریں گے۔

مختار انصاری کے وکیل کی دلیل کے بعد یوگی حکومت کے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے اپنے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ کسی فلم کے اسکرپٹ پلاٹ کی طرح ہے، کیونکہ پنجاب پولیس کو شکایت ملی کہ مختارانصاری نے تاجر کو بھتہ لینے کے لئے بلایا۔اس تاجرکو یوپی عدالت کی اجازت کے بغیر سیدھے باندہ جیل سے پنجاب لے جایا گیا۔

تشارمہتا نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں ایک کیس درج کیا گیا تھا اور اب مختار انصاری کوغیر آئینی طور پر وہاں رکھا گیا ہے۔جنرل تشار مہتا نے کہا کہ پنجاب کے تاجر کو بلایا گیا تھا اور بھتہ وصول کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ، لہٰذا پنجاب پولیس نے اس معاملے میں ابھی تک چارج شیٹ کیوں نہیں درج کی؟ اس معاملے میں مقدمہ درج ہوئے دو سال ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button