تلنگانہ کی خبریں

مردہ ہو یا زندہ! ایمبولنس والے کوئی رحم نہیں کرتے

تلنگانہ:(اردودنیا.اِن)ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جس میں کورونا کے مریض اور ان کا خیال رکھنے والوں نے شکایت کی کہ ایمبولنس والوں کی جانب سے کووڈ۔ 19 کے مشتبہ اور توثیق شدہ مریضوں کو تھوڑی دور لے جانے کے لئے بھی بے تحاشہ چارجس عائد کئے جارہے ہیں۔ نہ صرف کووڈ کے مریضوں بلکہ نان۔ کووڈ مریضوں کے لئے بھی خواہ انہیں دواخانہ میں شریک کروانے کے لئے لے جانا ہو یا آخری رسومات کے لئے نعشوں کی منتقلی ایمبولنس سرویس کے لئے بے تحاشہ چارجس ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

اس طرح کے چارجس کا شکار ہونے والے مریضوں نے شکایت کی کہ تھوڑے سے فاصلہ کے لئے بھی انہیں ایمبولنس سرویس کے لئے غیر معمولی رقم زیادہ ادا کرنے کے لئے کہا گیا۔ کووڈ ۔ 19 کی دوسری لہر کے درمیان گاندھی ہاسپٹل پھر ایک مرتبہ خصوصی کووڈ کیر فسیلٹی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس کے بعد تقریباً 900 نان ۔ کووڈ مریضوں کو جو مختلف امراض کے لئے وہاں زیر علاج تھے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل، چیسٹ اور فیور ہاسپٹلس کو بھیج دیا گیا۔

حتی کہ آئی سی یو کے مریضوں کو بھی ڈسچارج کردیا گیا اور انہیں مختلف دواخانوں یا گھروں کو بھیج دیا گیا۔ ان تمام مریضوں کو گاندھی ہاسپٹل سے دوسرے ہاسپٹلس کو منتقلی پر ایمبولنس سرویسیس کے لئے اس کے چارجس ادا کرنے پڑے۔ گاندھی ہاسپٹل کے کووڈ ۔ 19 کے ایک مشتبہ مریض ومشی کمار نے الزام عائد کیا کہ اس نے ایمبولنس ویان کے لئے 7000 روپے ادا کئے۔

اس میں ایسی کئی مثالیں ہیں جس میں مریضوں کو بروقت گورنمنٹ ایمبولنس سرویسیس دستیاب نہیں ہو رہی ہیں اور اسطرح کی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خانگی ایمبولنس سرویس فراہم کرنے والے من مانی کرتے ہوئے مریضوں سے بے تحاشہ چارجس وصول کررہے ہیں۔ معلوم ہوا ہیکہ خانگی ایمبولنس سرویس فراہم کرنے والے چند کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہاسپٹل کو مریضوں کو لے جانے کے لئے کوئی 5000 تا 7000 روپے چارجس وصول کئے ہیں۔

ایمبولنس کو بھاری رقم ادا کرنے کے اپنے تجربہ سے واقف کرواتے ہوئے محمد جہانگیر نے کہا کہ ان کے بھائی کو دواخانہ سے گھر لے جانے کے لئے 15 کیلومیٹر کے فاصلہ کے لئے ایمبولنس نے ان سے 7500 روپے چارجس وصول کئے۔ ایک اور مریض نے کہا کہ جب ان سے جانے کے لئے کہا گیا تو وہ ایمبولنس کا انتظام کرنے کے بارے میں پریشان تھے۔

اس طرح کے واقعات کو دیکھنے والے بی ستیہ نے کہا کہ ہر کوئی ہاسپٹل کے باہر جاکر خانگی ایمبولنس والوں سے چارجس پر بات کررہے تھے۔ تاہم ایمبولنس اسوسی ایشن نے اعتراف کیا کہ گورنمنٹ ایمبولنس کو مریض کو لے جانے کے لئے کم از کم 3 گھنٹے ہوئے ہیں اس لئے نان۔ کووڈ انفکشن کے مریض بھی ایمبولنس سروس حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں کیونکہ اس کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ایک متوفی شخص کے رکن خاندان نے کہا کہ ’’مرے ہوئے شخص کے لئے کوئی رحم نہیں ہوتا ہے ہاسپٹل سے شمشان یا قبرستان لے جانے کے لئے کیونکہ ایمبولنس سرویس کے لئے ان سے ہزاروں روپے چارج کئے جارہے ہیں‘‘۔

متعلقہ خبریں

Back to top button