لکھنئو(ایجنسی) الہ آبادہائی کورٹ نے حال ہی میں صفیہ سلطان اورابھیشک کمارکی شادی،نیزصفیہ سلطان کاہندودھرم قبول کرنے کی بابت زیرسماعت ایک عرضداشت پرفیصلہ سناتے ہوئے واضح کیاکہ بین المذہبی شادی معاملات میں شادی شدہ جوڑے کی جانب سے نوٹس بھیجنالازمی نہیں ہے۔
لوجہادقانون کے تحت ملک کی چندریاستوں میں مسلم لڑکے کی ہندولڑکی سےرضامندی سے کی گئی شادی پرناراضگی ، تشد داورپولس کیس جیسے معاملات کاسلسلہ جاری ہے۔اس پرعدالت کی جانب سے مداخلت کانام ونشان نہیں ہے۔اس پس منظرمیں الہ آبادہائی کورٹ کامذکورہ فیصلہ وضاحت طلب کہاجاسکتاہے۔
سوشل میڈ یاپروائرل شیوویندرسری واستوکی رپورٹ سے موصولہ جانکاری کے صفیہ سلطان اورابھیشک کمارکی شادی سے متعلق عرضداشت پرواضح کیاہے کہ خصوصی شادی قانون بابت ۱۹۵۴؍کے سیکشن ۶؍اور۷؍کی دفعات غلط ہیں جسکے تحت شادی شدہ جوڑے کونوٹس ارسال کرنالازمی ہے۔الہ آبادہائی کورٹ کے مطابق شریک حیات کاانتخاب عوام کابنیادی حق ہے۔
شادی شدہ جوڑااپنی نجی معلومات نوٹس کے ذریعہ عوام کی نظرمیں لاناچاہئے۔لہذا اسطرح کی نوٹس لازمی نہیں ہے۔نیزاسطرح کی شادی کیخلاف اعتراضات بھی جائزنہیں ہیں۔مزیدتفصیلات کے مطابق جسٹس وویک چودھری،لکھنئوبینچ،الہ آبادہائی کورٹ نے اتر پر دیش کے چیف سکریٹری کوعدالت کے فیصلہ سے آگاہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔




