ممبئی:(ایجنسیز)دہلی فساد کے متاثرین اور دیگر مظلومین کے مقدمات کی پیروی کرنے والے ملک کے مشہور ایڈوکیٹ محمود پراچہ کے دفتر پردہلی پولیس کے چھاپوں کے خلاف ملک کے۱۲۰۰؍ سے زائد وکیلوں نے ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے ان کی حمایت میں مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ملک کے معروف قانون داں پرشانت بھوشن سمیت ان تمام وکیلوں نے چیف جسٹس آف انڈیا شرد اروند بوبڈے کو خط لکھ کر۲۲؍ جنوری کو جلوس نکالنے اور ان سے ملاقات کرکے انہیں میمورنڈم دینے کابھی اعلان کیاہے۔ خیال رہے کہ محمود پراچہ کے دفتر پرجو چھاپہ مارا گیا ہے، اس کا تعلق اگست کے ایک مقدمے سے ہے۔
دہلی کی ایک عدالت نے ۲۲؍ اگست کوایڈوکیٹ محمود پراچہ کے خلاف اْن معاملات کی جانچ کرنیکا حکم دیا تھا،جس میں ان پر فریب دہی کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔اس کے فوراً بعد ان کے خلاف فریب دہی اور جعل سازی سے متعلق ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔اس معاملے کی جانچ دہلی پولیس کے ذریعہ کی جارہی تھی۔ اس پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے معروف قانون داں پرشانت بھوشن اور دوسرے بڑے وکیلوں نے یہاں پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس کانفرنس کاانعقاد کیا اور دہلی پولیس کو متنبہ کیا کہ مظلومین کو قانونی امداد فراہم کرنے والے وکیلوں کوہراساں کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ خیال رہے کہ محمود پراچہ بیشتر ایسے مقدمات کی پیروی کرتے ہیں جن کے تعلق سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان ملزمین کو ایک سازش کے تحت کسی معاملے میں ماخوذ کیاگیا ہے۔
اس کی توثیق پرشانت بھوشن نے بھی کی۔ انہوں نے ایک موقر انگریزی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’عام طورپر ان تمام وکیلوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جواْن ملزمین کا دفاع کررہے ہیں جنہیں زبردستی کسی معاملے میں ماخوذ کیاگیا ہے۔یہ اس سازش کا اگلا قدم ہے جس میں مظاہرہ کرنے والوں،سماجی کارکنوں اور انہیں قانونی امداد فراہم کرنیوالوں کو جانچ کی آڑ میں پھنسایا جائے۔ اس پریس کانفرنس میں پرشانت بھوشن کے ساتھ ہی سابق جسٹس بی جی کولسے پاٹل اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ چندر اْدے سنگھ نے بھی شرکت کی اور دہلی پولیس کے خلاف اپنی ناراضگی کااظہار کیا۔اس موقع پر اپنے خطاب میں جسٹس کولسے پاٹل نے کہا کہ محمود پراچہ کے خلاف جو کارروائی کی گئی ہے،
وہ اس لحاظ سے بھی ایک انتقامی کارروائی محسوس ہوتی ہے کہ ایک معمولی سے ای میل کیلئے دہلی پولیس نے انہیں۱۵؍گھنٹے تک ہراساں کیا۔۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک محمود پراچہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری وکلا کی برادری کا معاملہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں عدالت کو از خود نوٹس لے کر مداخلت کرنی چاہئے تھی کیونکہ دہلی پولیس کی یہ حرکت براہ راست عدالت کے بھی خلاف ہے۔



