بین ریاستی خبریں

ٹی وی چینلوں پر مذہبی اشیاء کی فروخت پر پابندی :ممبئ ہائی کورٹ

 

ممبئی: 6 جنوری (ایجنسیز) ممبئی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ٹی وی چینلوں پر مذہبی اشیاء کے فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ٹی وی چینل یا اداکار کو اس دعوے کے ساتھ کچھ مذہبی اشیا فروخت کرنے کے لئے اشتہارات کی تشہیر نہیں کرنا چاہئے جس سے یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ اس مصنوع سے انسانوں کی زندگی میں تبدیلی عمل میں آئیگی یاپھر خراب حالات میں سدھار عمل میں آئیگا۔

عدالت کے مطابق کسی بھی ٹی وی چینل ، کمپنی یا اداکار کو ایسی مصنوعات کی تشہیر کرنے پر ان کے خلاف دھوکہ دہی کے ساتھ ساتھ بلیک میجک ایکٹ (کالے جادو سے متعلق قانون ) کی دفعات کے تحت بھی قانونی کارروائی کی جائیگی ،جسٹس تاناجی نالاوڑے اور مکند سیولیکر کے دو ججوں کے بنچ نے کہا کہ سائنسی مزاج کو فروغ دینا ہر شہری کا بنیادی فرض ہے لیکن اسکی آڑ میں اس قسم کی چیزوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتاہے جس سے عام بھولے بھالے افراد کو نشانہ بنایا جاسکے۔

عدالت اس ضمن میں داخل کی گئی مختلف عرضداشتوں کی سماعت کر رہی تھی جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ اس طرح کے اشتہارات نشر کرنا غیر قانونی ہے اور وہ بلیک میجک ایکٹ کی دفعات کے تحت ناقابل معافی جرم ہے،درخواست گزار نے رونترائے ، انوپ جلوٹا ، مکیش کھنہ اور منوج کمار جیسے کو اداکاروں کا اپنی عرضداشت میں تذکرہ کیا ہے اور بتلایا ہیکہ کس طرح سے یہ اداکار ان مذہبی اشیاء کی تشہیر کر رہے ہیں ۔

عرض گزار نے گلوکارہ انورادھا پاڈوال سمیت کئی ٹی وی چینلز کے تعلق سے عدالت کو بتلایا کہ ان چینلز میں نشر کئے جانے والے اشتہارات میں بھگوان ہنومان کے نام سے منسوب ایک ینترا دکھلایا جارہاہے ، جس میں یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ ینترا میں "مافوق الفطرت” طاقت ہے اور اگر اسے خریدا گیا تو اس سے خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔

عدالت کو یہ بھی بتلایا گیا کہ”ہنومان چلیسا یاترا جیسی اشیاء بیچ کر پیسہ نکالنا ، جو ایک لاکٹ کی طرح ہے ، یہ بلیک میجک ایکٹ کے زمرے میں آتاہے نیز اشتہار میں مذکورہ یاترا کی خصوصیات کے ساتھ دعوی کیا گیا ہے کہ یہ خاص ، معجزاتی اور مافوق الفطرت ہے۔
جسٹس نلاوڈے کی بینچ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ بیچنے والے کے لئے یہ ثابت کرنا ممکن نہیں ہے کہ واقعی میں اس طرح کے ینترا میں ایسی کوئی خصوصیات موجود ہیں۔

عدالت نے آخر میں مھاراشٹراکی ریاستی اور مرکزی حکومت کو اس تعلق سے ممبئی میںفوری طور پر ایک شبعہ (سیل) بنانے کی ہدایت دی گئی ہے جسکی رو سے ٹی وی چینلز پر اس طرح کے اشتہارات کے ٹیلی کاسٹ پر روک لگائ جاسکے اور اسے یقینی بنایا جاسکے ،واضح رہیکہ اب ریاست کے چند نام۔نہاد عامل یا پھر "بنگالی بابا” بھی اس قانون کی زد میں آسکتے ہے جو تعویز اور گنڑوں کی تشہیر کرکے اپنی دکانیں چلا رہے ہیں

متعلقہ خبریں

Back to top button