سرورققومی خبریں

سپریم کورٹ میں اٹھا کسان ریلی کا معاملہ ،

سپریم کورٹ میں اٹھا کسان ریلی کا معاملہ ، چیف جسٹس نے مرکز ی حکومت سے کہا :آپ نے آنکھیں بند کیوں کررکھی ہے ، کچھ کرتے کیوں نہیں؟حکومت
نئی دہلی: ( اردودنیا.اِن) جمعرات کو تبلیغی جماعت مرکز کیس میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے 26 جنوری کوکسان ریلی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت اس معاملے پر اپنی آنکھیں کیوں بند کررکھی ہے ،

وہ کچھ کیوں نہیں کررہی ہے؟واضح رہے کہ یوم جمہوریہ کے موقع پرکسان تحریک کے تحت کسانوں نے ٹریکٹر ریلی نکالی ، جو مشتعل ہوگئی اور کئی جگہوں پر توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔جمعرات کو سپریم کورٹ نے تبلیغی جماعت کی میڈیا رپورٹس کے خلاف جمعیت علمائے ہند اور پیس پارٹی سمیت دیگر لوگوںکی درخواستوں کی سماعت کے دوران 26 جنوری کے اس واقعے پر بھی تبصرہ کیا۔

عدالت نے کہا کہ کچھ خبروں پر قابو رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کچھ حفاظتی اقدامات اپنانا اور امن و امان کی صورتحال کو جانچنا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے اس کے لئے آنکھیں کیوں بندکر رکھی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فرضی خبروں کی وجہ سے تشدد ہوتا ہے۔ کسی کی موت ہوجائے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ ایسی صورتحال نہیں پیدا ہونی چاہئے۔ درخواست گزار نے کہا کہ حکومت کے پاس ایسے پروگرام کو روکنے کا اختیار ہے۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا تھا کہ وہ میڈیا کو جماعت کے معاملے پر رپورٹنگ کرنے سے نہیں روک سکتے ۔

یہ صحافت کی آزادی کا معاملہ ہے۔ مرکز کے بارے میں زیادہ تر رپورٹ غلط نہیں تھی۔سالیسٹر جنرل تشارمہتا نے کہا کہ کیبل ٹی وی ، ڈی ٹی ایچ اور او ٹی ٹی کے تکنیکی پہلو کیا ہیں،ان کو باقاعدہ بنانے کے طریقوں پر حکومت مکمل خاکہ پیش کرے گی ۔ اس کے لیے انہوں نے عدالت سے وقت مانگا ،

جس پر چیف جسٹس نے حکومت کو تین ہفتے کا وقت دیا ہے کہ ٹی وی کی خبریں ، پروگرام کو باقاعدہ بنانے ٹیکنالوجی سسٹم کیا ہے ،ان سب پہلوئوں پر حکومت اور تمام فریقوں کے جواب داخل کریں۔واضح رہے کہ جمعیت علمائے ہند نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی ،

جس میں مرکزکیس کے میڈیا کوریج کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ میڈیا غیر ذمہ دارانہ سلوک کررہا ہے۔ میڈیا ایسا دکھارہا ہے جیسے مسلمان کورونا پھیلانے کی مہم چلا رہے ہیں اور عدالتوں کو اس پر پابندی عائد کرنی چاہئے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیں ، جس پر سماعت ہوئی ۔

مزید خبریں

متعلقہ خبریں

Back to top button