لکھنؤ:17 دسمبر( ایم میل ) لکھنؤ کی سب سے قدیم و متحر ک تنظیم بزم شمس کے ذمہ داران نے اپنے بانی و سرپرست ڈاکٹرمعراج ساحل کی بے لوث خدمات کو خراج پیش کر نے کے لئے ان کی یاد میں سیمینار و مشاعرے کا اہتمام زیر صدارت معروف وخوش فکر شاعر رفعت شیدا صدیقی نے کیا ۔نظامت معروف قلم کار رضوان فاروقی نے کی ۔ حافظ امتیاز کی تلاوت سے آغاز ہوا ۔ ڈاکٹر معراج ساحل کے پسر زادے محمد اریب نے نعت پاک خوبصور ت انداز میں پڑھی ۔ واضح رہے نو ر جہاں اپارٹمنٹ ( گولہ گنج ) میں تقریبا 45 شعراء ، فرزندان معراج اور اہل محلہ نے شرکت کرکے شاعر کو محبتوں کا خراج پیش کیا ۔ بطور مہمان خصوصی سابق آئی اے ایس انیس انصاری نے شرکت کی ۔ سنجے مصراشوق ، ہارون رشید اور ڈاکٹر اسرار الحق نے مقالات کے ذریعہ ڈاکٹر معراج ساحل کی صفات وخدمات کا ذکر جمیل کیا ۔ محمد فاروق جاذب لکھنوی کو ابو الفضل شمس لکھنوی ایوارڈ سے بدست انیس انصاری نوازا گیا ۔ اور معراج ساحل ایوارڈ سے رحمت لکھنوی کو ۔واصف فاروقی نے ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کی ۔ مقالہ نگار سنجے مصراشوق نے کہابزم شمس کے حوالے سے ڈاکٹر معراج ساحل کا قد بہت بلند ہے ۔ مسٹر انیس انصاری نے مشورہ دیا کہ ہر سال یہ پروگرام وفات پر نہ ہو کر ولادت پر ہونا چاہئے ،تاکہ خوشی کاماحول رہے ۔ ڈاکٹراسرار الحق نے کہا میرے والد نے محبتیں لٹائیں بھی محبتیں پائی بھی۔ہارو ن رشید نے کہا نعتیہ ادب پر گفتگو ذکر معراج کے بغیر نامکمل رہے گی ۔ منتخب کلام درج ذیل ہے ۔ یہ دنیا خود کو تو اک شاہکار فن سمجھتی ہے مگر یہ دوسروں کو پائوں دھوون سمجھتی ہے شیدا صدیقی آئنہ دیکھ لے یہ فن اسے معلوم نہیں صرف آئینہ دکھانے کا ہنر آتا ہے محمد فاروق جاذب اگر نہیں ہے کو ئی ذمہ دار نظم چمن سوال یہ ہے گلستاں میں پھر ہوں میں کیسے احمد سجاد شب کے آخر ہو تے ہو تے دیکھئے ہو تا ہے کیا اب سے پہلے شمع کی لو اتنی تھرائی نہیں رحمت لکھنوی ہم پہ انگلی اٹھے گی یقینا کبھی ہم نے آنکھوں کو سیلاب ہونے دیا
منیش شکلا مو تیا بند میں اکسیر ہیں جلوہ تیرے ورنہ اس حسرتیں دیدار کی ایسی تیسی مسرور جہاں پوری خدا سے مانگ لیتے ہیں سبھی کچھ کہ اس میں خوف رسوائی نہیں ہے خلیل احسن روح کو جسم کے عناصر میں کتنا مشکل ہے ہم سفر رکھنا قمر سیتا پوری وہ اک زمانے کے بعد دیکھے گا رو پڑے گا مجھے پرانا بس ایک کر تا نکالنا ہے سلیم صدیقی معیاری شاعری کا زمانہ گزر گیا شاعر ہیں اور سمجھ نہیں سکتے ہیں شین تک رضوان فاروقی ہمارے گھر کے جگنو اور ستارے کون دیکھے گا نہ ہوں گے ہم تو بچوں کو ہمارے کون دیکھے گا نصیر احمد نصیر ہم گناہ گاروں کی عزت بھی ہے اس دنیا میں نام کیا دیں اسے اللہ کی رحمت کے سوا مولانا یقین فیض آبادی مذکورہ شعراء کے علاوہ مر زا شارق لاہر پوری ، عرفان بارہ بنکوی ، مجیب صدیقی ، ڈاکٹر منصور حسن خاں ، عزم گونڈوی ، احمد جمال ،عتیق صدیقی ، سلیم روشن ، شکیل مینائی ، عاصم کاکوروی ، سلیم تابش ، عقیل غازی پوری ، ساحل عارفی ، نعیم ،منظر ، افروز اکرم ، عتیق ارحم ، وقار کاشف ، ماہر لکھنوی ، کمال ادیب ، مسعود احمد فہمی ، سید مہتاب حیدر ، عاشق رائے بریلوی ، جلال لکھنوی ، فیاض لکھنوی ، فاروق عادل ، حافظ ارشدطالب ، طارق سخا، ڈاکٹر ناظم فاروق ، وغیرہ ۔ مخصوص شرکاء میں فروز واسطی ، فیضان خاں، حافظ مصباح الحق ، محمد سیف ، نواب قنبر قیصر ، ڈاکٹر سریندر دوبے گونڈوی ، حاجی عبد القدیر ، و دیگر ۔کنوینر پروگرام ابرار صارم نے شکر یہ کے ساتھ پر تکلف ضیافت کی ۔