نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)دہلی یونیورسٹی اور اس سے وابستہ کالجوں کے 500 سے زیادہ اساتذہ کے کرونا سے متاثر ہونے کی خبر ہے ۔ سب سے زیادہ 44 کیس صرف شیواجی کالج کے رپورٹ ہوئے ہیں ۔ جبکہ ڈی یو اساتذہ ایک بار پھر 100 بیڈ پر مشتمل اسپتال کا مطالبہ کر رہے ہیں ، لیکن سب سے زیادہ پریشانی ایڈہاک اساتذہ کی ہے ، جن کو طبی سہولت کے نام پر ڈی یو سے کچھ نہیں ملتا ہے۔ واضح رہے کہ ڈی یو کے نارتھ کیمپس میں بیشتر محکموں میں اساتذہ کے علاوہ غیر تعلیمی عملہ بھی کورونا مثبت ہوگیا ہے۔
ڈی یو اساتذہ ایسوسی ایشن کے صدر راجیب رے نے کہا کہ اس وقت ڈی یو کے 500 سے زیادہ اساتذہ کورونا مثبت ہیں ، کئی سارے اساتذہ کورونا کے باعث فوت کرگئے ہیں۔ نہ صرف مستقل بلکہ ایڈہاک اساتذہ بھی اس سے شکار ہو رہے ہیں۔ کئی ایڈہاک اساتذہ کرونا سے متاثر ہیں۔شیواجی کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شیو کمار سہادیو نے بتایا کہ کئی اساتذہ اور ان کے کنبہ کے افراد کورونا سے متاثر ہیں، لیکن ہم نے کالج میں جنوبی دہلی کے ایس ڈی ایم اور ڈی یو کے ہیلتھ سنٹر کے اشتراک سے ویکسی نیشن سینٹر کھول دیا ہے۔
یہاں اساتذہ ، ملازمین اور 45 سال سے زیادہ عمر کے ان کے اہل خانہ اپنے آدھار کارڈ دے کر ٹیکے لگاسکتے ہیں، اتوار کے علاوہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک ویکسین دی جاتی ہے ۔ وہیں ایڈہاک اساتذہ لیڈر منوج کمار کہتے ہیں کہ آج ڈی یو مشکل وقت میں ایڈہاک اساتذہ رکھتا ہے، انہیں کسی بھی قسم کی طبی سہولت نہیں ملتی ہے۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ باقی اساتذہ کی طرح ایڈہاک اساتذہ کو بھی طبی سہولیات دی جائیں ،اور اگر کچھ تکنیکی رکاوٹیں ہیں ،تو ان کو دور کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ صدی کی سب سے بڑی وبا ہے اور ایسی صورتحال میں ایڈہاک کو ان کی حالت پر ڈی یو کیسے چھوڑ سکتا ہے؟



