تشویشناک حالت کے باعث مریضوں کی موت ، ہاسپٹل انتظامیہ کی وضاحت
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کنگ کوٹھی دواخانہ میں آکسیجن کی قلت کے سبب کورونا کے 7 مریضوں کی موت ہوگئی ہے ۔ مبینہ طور پر آکسیجن کی 12گھنٹے تاخیر سے سربراہی کے نتیجہ میں یہ واقعہ پیش آیا ۔ دوسری طرف ہاسپٹل انتظامیہ نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ مریض انتہائی تشویشناک حالت میں تھے جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی ہے انہیں فوری طور پر آکسیجن کی ضرورت نہیں تھی ۔ اس واقعہ کے بعد کنگ کوٹھی ہاسپٹل میں دہشت کا ماحول دیکھا گیا ۔
ہاسپٹل میں 300 آکسیجن بیڈ ہیں جبکہ 50آئی سی یو بیڈس کی سہولت ہے ۔ کل آکسیجن کی سپلائی میں خلل کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ۔ میڈیا کے نمائندوں نے ہاسپٹل میں مرنے والوں کے ارکان خاندان سے بات چیت کی ، جنہوں نے بتایا کہ اپنے طور پر انہوں نے آکسیجن کا انتظام کرنے کی کوشش کی ۔ حالات اُس وقت خراب ہوگئے جب آکسیجن ٹینکر راستہ بھول گیا اور تاخیر ہوگئی ۔ بعدازاں پولیس نے ٹینکر کو ہاسپٹل پہنچانے میں مدد کی ۔
ذرائع نے بتایا کہ اس دوران 7 مریضوں کی موت واقع ہوگئی ۔ انتظامیہ تاہم اس بات سے انکار کررہا ہے ۔ ہاسپٹل سپرنٹنڈنٹ نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ہاسپٹل میں آکسیجن کا مناسب اسٹاک موجود ہیں جودو دنوں تک مریضوں کو دی جاسکتی ہے۔اس واقعہ کیلئے سوشل میڈیا پر چیف منسٹر ‘ چیف سیکریٹری ‘ ہیلت سیکریٹری اور ڈائریکٹر ہیلت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت سرکاری دواخانو ںکی ابتر صورتحال کی پردہ پوشی کی کوشش کر رہی ہے اور اس کوشش کے دوران مریضوں کی جان جانے لگی ہے اس کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے کسی کو جوابدہ بنانے سے گریز کیا جا رہاہے۔
ریاست میں آکسیجن کی قلت کے سلسلہ میں کی جانے والی شکایات کے متعلق چیف سیکریٹری مسٹر سومیش کمار نے کہا تھا کہ ریاست میں کسی بھی شئے کی کوئی قلت نہیں ہے اور نہ ہی آکسیجن یا انجکشن کی قلت ریکارڈ کی جا رہی ہے اور حالات کے متعلق چیف سیکریٹری نے دعویٰ کیا تھا کہ ریاست تلنگانہ میں حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں ۔چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ نے ریاست تلنگانہ میں صورتحال کو بہتر اور ریاست کے محکمہ صحت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست تلنگانہ میں حالات دیگر ریاستوں کے مقابلہ کافی بہتر ہیں۔
ان دعوؤں کے باوجود گذشتہ شب ضلع ہاسپٹل حیدرآباد کنگ کوٹھی میں 7 مریضوں کی آکسیجن کی قلت کے سبب ہونے والی موت نے شہریوں کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے اور کہا جار ہاہے جب حکومت سرکاری دواخانو ںمیں آکسیجن فراہم کرنے کے موقف میں نہیں ہے توخانگی دواخانوں کی کیا صورتحال ہوگی اور وہ کس طرح سے آکسیجن حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہوں گے ۔
مری آدتیہ ریڈی نے آکسیجن کنٹرینر کے لاپتہ ہوجانے کی اطلاع کو مجرمانہ غفلت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے گرین چیانل کی فراہمی کے ذریعہ جب شہر حیدرآباد میں آکسیجن فراہم کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا رہے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست کے اضلاع کی کیا صورتحال ہوگی!اس کے علاوہ دیگر سرکردہ شہریوں نے آکسیجن کے ٹینکر کے لاپتہ ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آکسیجن ٹینکر لاپتہ ہوا تھا یامائع آکسیجن کی کالابازاری سرکاری سرپرستی میں کی جا رہی ہے اس کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ حقائق کا پردہ فاش ہوسکے۔



