عدالت کی مرکزاور دہلی حکومت کووارننگ
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو حکام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ قومی دارالحکومت میں کووڈ 19 کے معاملات میں کمی کو ہلکے میں نہ لیں کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ وائرس دوبارہ سر اٹھا لے گا اور شہری متاثر ہوں گے۔ عدالت نے ساتھ ہی حکام کو مائع علاج معالجہ آکسیجن (ایل ایم او) کے محفوظ بفر اسٹاک (سیف اسٹاک) کے لئے ان کی ذمہ داری کے بارے میں یاد دلایا۔
جسٹس وپن سنگھی اور جسٹس جسسمیت سنگھ کی بنچ نے مرکز کو بتایاکہ اگر آپ نے اقدامات نہیں اٹھائے تو ہم آپ سے ایک بار پھر سوال کریں گے، ہم آپ کو بتا رہے ہیں،براہ کرم اسے ہلکے سے مت لیں، ہم آپ کو ایک بار پھر وارننگ دے رہے ہیں۔ جبکہ دہلی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس نے یہاں کے مختلف مقامات پر ایل ایم او کا 419ایم ٹی کا بفر اسٹاک تیار کیا ہے اور اگلے 10 دنوں میں مزید ذخائر بنانے کا اہتمام کررہا ہے، انہوں نے مرکز کی اسٹیٹس رپورٹ کا ذکر کیا۔
انہوں نے انکشاف نہیں کیا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کے تناظر میں اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں،ہم جانتے ہیں کہ یہ واپس آئے گا اور ہم پر برا اثر ڈالے گا، ہم مرکز اور حکومت دہلی دونوں کو یاد دلاتے ہیں کہ 30 اپریل کو سپریم کورٹ کے حکم میں بفر اسٹاک کے قیام کی ذمہ داری بنیادی طور پر مرکز اور حکومت دہلی پر عائد کی گئی ہے۔
بنچ نے کہا کہ ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دینا چاہیں گے کہ کووڈ19 کے معاملات میں کمی کو ہلکے سے نہیں لیا جانا چاہئے کیونکہ یہ وائرس ایک بار پھر سر اٹھاسکتاہے اور دہلی کے لوگوں کو متاثر کرے گا۔
سائنس دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صورتحال اور بھی مشکل ہوسکتی ہے،اس لئے مرکزی اور دہلی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ دوبارہ ایسی صورتحال میں نہ آئیں کہ وہ حالات کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔



