تلنگانہ:(اردودنیا.اِن) سرکاری دواخانوں کی زبوں حالی کے بارے میں روزانہ عوام کو تلخ تجربات سے گزرنا پڑتا ہے لیکن عثمانیہ میڈیکل کالج کے طلبہ کو علاج کے لئے سرکاری دواخانہ میں بستروں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ۔ عثمانیہ میڈیکل کالج کے 42 طلبہ سمیت غذا سے متاثر ہوئے تھے اور انہیں علاج کے لئے فیور ہاسپٹل اور عثمانیہ ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا لیکن وہاں ڈاکٹرس اور بستروں کی کمی کے نتیجہ میں دوبارہ ہاسٹل واپس لاکر علاج شروع کیا گیا ۔
بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 76 طلبہ نے سمیت غذا کے بعد دست اور قئے کی شکایت کی۔ یہ معاملہ جب فیور ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا تو وہاں فزیشن کی کمی کا معاملہ منظر عام پر آیا ۔ صرف دو طلبہ کو حالت بگڑنے پر ایمرجنسی وارڈ میں شریک کیا گیا ، دیگر طلبہ کو عثمانیہ جنرل ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا جہاں بستروں کے علاوہ ٹائلٹ کی سہولت نہیں تھی ۔
دو طلبہ کو اے ایم سی وارڈ میں شریک کیا گیا ۔ دیگر طلبہ کو گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں صرف 30 طلبہ کو بستر فراہم کیا گیا جبکہ دیگر طلبہ ہاسٹل واپس کردیئے جہاں پوسٹ گریجویٹ طلبہ کی نگرانی میں علاج جاری ہے۔
عثمانیہ میڈیکل کالج جونیئر ڈاکٹرس اسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ فیور ہاسپٹل اور عثمانیہ ہاسپٹل میں میڈیکل طلبہ کیلئے سہولتوں کا یہ فقدان ہے تو پھر عام مریضوں کیلئے کیا ہوگا ۔ اس سلسلہ میں ڈائرکٹر میڈیکل اینڈ ہیلت ڈاکٹر رمیش ریڈی سے شکایت کی گئی ہے۔



