نیویار ک:(ایجنسیاں)ہالی وڈ کی سائنس فکشن اور سنسنی سے بھرپور ایکشن فلم گوڈزیلا ورسز کونگ نے کرونا وبا کے دوران باکس آفس پر اچھا آغاز کر کے تھیٹر مالکان کے لیے امید کی کرن جگا دی ہے۔وارنر برادرز کے بینرز تلے بننے والی فلم گوڈزیلا ورسز کونگ کو 24 مارچ کو دنیا بھر میں اور 31 مارچ کو امریکہ میں ریلیز کیا گیا تھا۔
غیر معمولی قد و قامت، جسامت اور سب کچھ تباہ کر دینے کی صلاحیت رکھنے والی عجیب مخلوق پر مشتمل فلم گوڈزیلا ورسز کونگ نے پانچ روز میں توقعات سے بڑھ کر چار کروڑ 85 لاکھ ڈالر کا بزنس کیا ہے جسے کرونا وبا کے دوران ریلیز ہونے والی فلموں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تصور کیا جا رہا ہے۔
The time has come to choose a side!
👇 Tap below to let us know if you are #TeamGodzilla or #TeamKong for a monster-sized surprise and we’ll remind you to get your tickets on March 30 to see #GodzillaVsKong in theaters March 31!
— Godzilla vs. Kong (@GodzillaVsKong) March 19, 2021
اتوار کو اسٹوڈیو کی جانب سے پیش کیے گئے اندازے کے مطابق فلم گوڈزیلا ورسز کونگ نے جمعے سے اتوار کے دوران تین کروڑ 22 لاکھ ڈالرز کا بزنس کیا۔سولہ کروڑ ڈالرز کے بجٹ میں تیار ہونے والی فلم گوڈزیلا ورسز کونگ نے پانچ روز کے دوران اسی فرنچائز کی 2019 میں ریلیز ہونے والی فلم گوڈزیلا: کنگ آف مونسٹرز کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے، جس نے ابتدا میں چار کروڑ 78 لاکھ ڈالرز کا بزنس کیا تھا۔
فلم نے دو ہفتوں کے دوران دنیا بھر میں مجموعی طور پر 28 کروڑ 54 لاکھ ڈالرز کمائی کی ہے۔اس سے قبل دسمبر میں وبا کے دوران ریلیز ہونے والی فلم ‘ونڈر وومن 1984’ نے لانچ ہوتے ہی ایک کروڑ 67 لاکھ ڈالرز کمائے تھے جب کہ شمالی امریکہ میں 2021 کی سب سے بہترین اوپننگ فلم ٹام اینڈ جیری تھی، جس نے ایک کروڑ 37 لاکھ ڈالرز کمائی کی تھی۔
وارنر برادرز کے ڈسٹری بیوشن چیف جیف گولڈسٹین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فلم بین گوڈزیلا ورسز کونگ جسی فلم کا بڑی اسکرین پر آنے کا انتظار کر رہے تھے اور نمبرز جھوٹ نہیں بولتے۔وارنر برادرز اسٹوڈیوز کے مطابق فلم نے زیادہ تر نوجوانوں کو راغب کیا ،جس میں 72 فی صد شائقین کی عمر 35 سال سے کم تھی۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ میں تھیٹرز کی دو سب سے بڑی مارکیٹس نیویارک اور لاس اینجلس کے تھیٹرز کو فلم بینوں کے لیے کھول دیا گیا تھا۔



