بین الاقوامی خبریں

ہم جنس پرست ایرانی نوجوان رشتہ داروں کے ہاتھوں ہلاک

نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ایران میں ایک بیس سالہ ہم جنس پرست نوجوان کو اس کے رشتہ داروں نے اس کے غیر فطری جنسی میلان کے باعث مار مار کر ہلاک کر دیا۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ نوجوان نوعِ ثالث تخصیص کا حامل تھا۔فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے جمعے کے روز موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس نوجوان کا نام علی رضا فاضلی منفرد تھا، اس کی موت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کئی مشہور شخصیات کی طرف سے شروع کردہ مذمتی مہم شروع ہو گئی ہے۔

ایمنسٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق علی رضا فاضلی منفرد کے رشتہ دار پہلے بھی اس پر جسمانی حملوں کی کوششیں کر چکے تھے۔ مگر رواں ماہ کے شروع کے دنوں میں اس کے رشتہ داروں نے، جو منفرد کے جنسی میلان اور حرکتوں سے شدید نالاں تھے، اس پر اتنا تشدد کیا کہ وہ ہلاک ہو گیا۔مقتول نے اپنی زندگی میں ایسے ویڈیو کلپ بھی بنائے تھے، جن میں واضح اشارے دیئے گئے تھے کہ اسے کتنے زیادہ سماجی اور خاندانی دباؤ کا سامنا تھا۔

اس بارے میں ایمنسٹی نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں بھی کہا ہے کہ منفرد کو اس کے جنسی رجحانات اور اپنی غیر واضح صنفی شناخت کے اظہار کی پاداش میں قتل کیا گیا۔ اس ٹویٹ میں کہا گیا ہے،اس وجہ سے کسی کی بھی جان نہیں جانا چاہیے۔ ہم علی رضا فاضلی منفرد، ایرانی ہم جنس پرست برادری اور مجموعی طور پر ایل جی بی ٹی آئی کمیونٹی کے لیے انصاف اور انسانی وقار کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایران میں ہم جنس پرستی قانوناً ممنوع ہے اور وہاں اسی مہینے علی رضا فاضلی منفرد کے تشدد کے نتیجے میں قتل کو اس ملک میں ہم جنس پرست شہریوں کو درپیش مشکلات اور خطرات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کا قومی اور علاقائی میڈیا منفرد کے قتل کے بارے میں مسلسل خاموش ہے ،مگر بیرون ممالک کے فارسی زبان کے میڈیا نے اس کی رپورٹیں شائع کی ہیں۔ واضح ہو کہ ایران میں ہم جنس پرستی پر قانونی پابندیاں عائد ہیں ؛لیکن ایرانی قدیم ادب و شعر ہم جنس پرستی کے امور سے ژولیدہ ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button