تلنگانہ کی خبریں

آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے شجر کاری، جنگاؤں ایم ایل اے متی ریڈی یادگیرریڈی

آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے شجر کاری، جنگاؤں ایم ایل اے متی ریڈی یادگیرریڈی
www.urduduniya.in
جنگاؤں: (محمد عابد فیصل قریشی) ضلع جنگاؤں  کے ایم ایل اے متی ریڈی یادگیرریڈی نے کہا ہے کہ تلنگانہ حکومت بڑے پیمانے پر پودے لگانے اور ان کے تحفظ کے لئے آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لئےسر  ایک خصوصی اہمیت کے حامل شجر گاری سبزو شادابی پروگرام پر کام کررہی ہے۔  ایم ایم ایل اے نے بروز جمعرات جنگاؤں کے مرکز سے نرمیٹا اور تری گوپولا کے اس پار ضلع کی سرحد پر بوتلولاپرے تک  سڑک کے دونوں جانب ہودے لگانے کے  پروگرام شجر کاری  میں حصہ لیااور پودے لگائے۔ اس موقع پر  ایم ایل اے نے کہا کہ یہ اہم بات نہیں ہے کہ ہم نے آنے والی نسلوں کے لئے کتنے اثاثے چھوڑ رکھے ہیں
 ضروری ہی ھیکہ ہم وہ اثاثہ چھوڑ جائیں جس سے انکواچھی صحت اور صاف ماحول فراہم ہو۔ہمیں چاہے کہ ہم بہتر زندگی کے لئے ایک مناسب ماحول پیدا کریں۔  ہماری ریاست میں سبزہ زاری حصہ 24 فیصد ہے جبکہ 33 فیصد ہونا چاہئے تھا۔،وزیر اعلی نے کہا کہ پودے  پروگرام لگانے کا عمل ایک نیکی ہے۔
اس نشانے کو پورا کرنے کیلئے ہر ایک کو دلچسپی کے ساتھ حصہ لینا چاہئے۔اور ہر سال پودے لگانا چاہئے۔درخت آلودگی کو ختم کرتے ہیں اور پانی کے توازن کے ساتھ مٹی کی زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں،ماحول کو صاف رکھتے ہیں آلودگی کی وجہ سے  درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے اور  وقت پر بارش  نہیں ہورہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ زیادہ تعداد میں ادویات کے درخت لگائے جائیں۔   درختوں کی تعداد میں اضافہ کریں اور آنے والی نسلوں کو صحت مند ماحول دیں۔  انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام کسی ایک فرد سےمکمل  نہیں ہو گا  اس میں  سبھی  کو شراکت دار بننا پڑے گا  تبھی کامیابی ممکن ہے۔
ایم ایل اے نے کہا کہ شہر جنگاؤں کے مرکز سے بوٹولاپری تک 40 کلومیٹر طویل سڑک کے دونوں اطراف 18000 پودے لگائے گئے ہیں۔  کسانوں نے عوامی نمائندوں  و عہدیداروں کے تعاون سے پودے لگائے گئے ہیں ۔  انہوں نے بتایا کہ سڑک کے دونوں اطراف ریکارڈ کے مطابق ، محکمہ عمارات و شوارح  کے عہدیداروں نےسروے کیا تھا اور سڑک سے وابستہ زمین میں پودے لگائے گئے تھے۔ 
استقامت اور منصوبہ بندی کے ساتھ ، سڑک کے اطراف کے جنگلی پودے ، جھاڑیوں اور پتھروں کو ختم ہٹایا گیا۔  پودوں کو لگانے کے علاوہ  ان کی دیکھ بھال کے لئے سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ  دیہات میں پودوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری عوامی نمائندوں کے سپرد کردی گئی ہے اور انہیں مکمل طور پر ذمہ دار بنایا گیا ہے۔  زیر زمین پانی کی سطح بڑھ چکی ہے اور آبادی والے علاقوں میں شجر کاری پروگرام کے ذریعے بورویل اور سروے دوبارہ لبریز ہوچکے ہیں۔ 
گرام پنچایتیں اپنے بجٹ کا 10 فیصدشجر کاری پروگرام  پر خرچ کررہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ حکومت تلنگانہ کے ہر گھر کو فلاح و بہبود اور ترقی کو یکساں ترجیح دیے جانے کو یقینی بنانے کے لئے پروگراموں پر عمل درآمد کرے گی۔اس موقع پر ، یم یل اے نے شجر کاری پروگرام  میں حصہ لے کر ان ملازمین ،عوامی نمائندوں کی شالپوشی کی  اور مبارکباد پیش کی۔جنھوں نے پودوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لی تھی۔ اس موقع پر عوام کے نمائندے ، پنچایت سکریٹری اور دیگر موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button