نئی دہلی 12اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کسان رہنما راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ لکھیم پور کھیری کیس سے متعلق معاہدہ گہری غور و خوض کے بعد ہی کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ میں نے اکیلے بیٹھ کر اترپردیش حکومت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا ، 9 دیگر لوگ بھی وہاں موجودتھے۔ بھارتیہ کسان یونین کے رہنماراکیش ٹکیت نے کہاہے کہ اترپردیش حکومت نے اس کیس کے ملزم آشیش مشرا کو گرفتار کرکے اپنی ذمہ داری پوری کی۔
جہاں تک مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اور آشیش کے والد اجے مشرا کی برطرفی کا تعلق ہے ، یہ مرکزی حکومت پر منحصر ہے۔ جب تک اجے مشرا کو وزیر کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے اصرارکیاہے کہ ہماری تحریک سیاسی نہیں ہے۔
مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے آبائی گاؤں میں ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریہ کے خلاف 3 اکتوبر کو اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری ضلع کے ٹکونیا علاقے میں ہونے والے تشدد میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس معاملے میں مشرا کے بیٹے آشیش سمیت کئی لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ آشیش کو ہفتے کے روز گرفتار کیا گیا۔



