قومی خبریں

احتجاج کاحق لیکن دوسروں کی زندگیوں کومتاثرنہ کریں کسانوں کوسپریم کورٹ کی دوٹوک

 مرکزنے کہا،معاملے کے حل کے لیے دوہفتے کی ضرورت

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)سپریم کورٹ نے زرعی قوانین کے خلاف دہلی بارڈر پر مظاہرے پرکہاہے کہ دوسروں کی زندگیوں میں رکاوٹ نہیں ڈالناچاہیے۔ سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر مظاہرین پالیسی قبول نہیں کرتے ہیں تو دوسروں کو بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ گاؤں بنائیں لیکن دوسرے لوگوں کے لیے رکاوٹ نہ بنیں۔ لوگوں کو احتجاج کرنے کا حق ہے ، لیکن وہ دوسروں کے لیے رکاوٹ نہیں بنا سکتے ہیں۔

اسی دوران اس معاملے میں مرکزی حکومت نے کہاہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے دو ہفتوں کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے مرکز کو مزید وقت دیا۔ کیس کی اگلی سماعت 7 مئی کو ہوگی۔سپریم کورٹ نوئیڈا کے رہائشی کی عوامی مفاد کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی تاکہ نوئیڈا اور دہلی کے درمیان سڑک کو یقینی بنایا جاسکے۔ گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے نوئیڈا کی رہائشی مونیکا اگروال کی جانب سے دائر ایک رٹ پٹیشن پرریاست اتر پردیش اور ہریانہ کو نوٹس جاری کیا تھا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ نوئیڈا سے دہلی کے سفرمیں روڈ جام کی وجہ سے معمول کے 20 منٹ کی بجائے دو گھنٹے لگاہے۔

جسٹس ایس کے کول اور ہیمنت گپتا کے بنچ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عوامی سڑکیں بند نہیں کی جائیں اور یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات میں بار بار زور دیاگیاہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button