تلنگانہ کی خبریں

استعفی مانگا جاتا تو میں بخوشی دے دیتا۔تلنگانہ کابینہ سے برطرف وزیر ای راجندرکاریمارک

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن)اراضیات پر غیرمجاز قبضوں کے الزامات پر کابینہ سے برطرف تلنگانہ کے سابق وزیر و ٹی آرایس لیڈر ای راجندر نے آج کہا ہے کہ اگر ان سے استعفی مانگاجاتاتو وہ دے دیتے۔انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلی کے کیمپ آفس پرگتی بھون میں وزیراعلی کی جانب سے ریاستی وزرا کو ملاقات کا موقع نہ دیئے جانے پر نکتہ چینی کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہہ کر وزیراعلی سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کیاجارہا ہے کہ وزیراعلی کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔یہ گھمنڈ نہیں تو کیا ہے؟سابق وزیر نے حضورآباد میں اپنی قیامگاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کے سابق رفقا گنگولہ کملاکر،کے ایشور کی جانب سے عائد الزامات کی تردید کی۔انہوں نے کہا کہ 2014تک کے چندرشیکھرراو مناسب شخصیت تھے۔تلنگانہ کے گاندھی سمجھے جانے والی اس اہم شخصیت نے آج جانبدارانہ کارروائی کی ہے۔جھوٹی رپورٹس اور مشوروں پر ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کو کابینہ سے برطرف کیاگیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کا کوئی کام اچھانہیں لگا تو وزیراعلی کو چاہئے تھا کہ ان کو طلب کرتے ہوئے ان سے استعفی مانگتے جس پر وہ خوشی خوشی اپنا استعفی پیش کردیتے لیکن ایسا نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ آج جو لوگ بھی ان پر نکتہ چینی کررہے ہیں وہ ان کے رفقا ہیں۔ای راجندر نے کہاکہ وہ وزیراعلی نہیں بننا چاہتے،وہ چاہتے تھے کہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے فرزند ان کے جانشین بنیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button