
مقبوضہ بیت المقدس:(ایجنسیاں)اسرائیل نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے یہ کہتے ہوئے تعاون نہ کرنے کی تصدیق کی ہے کہ اسے اسرائیلی حکام کے خلاف تفتیش کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نےکہا ہے کہ ان کی حکومت فلسطینی علاقوں میں ہونے والے ممکنہ جنگی جرائم سے متعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے تحقیقات میں تعاون نہیں کرے گی۔
نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیگ میں واقع اس عالمی عدالت کو اسرائیل کیخلاف تحقیقات شروع کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔اس بیا ن کے مطابق اسرائیل قانون کی حکمرانی کا پابند ہے اور وہ اپنے خلاف کسی بھی ذرائع سے عائد کیے جانے والے الزامات کی خود تحقیقات جاری رکھے گا،اور اسے امید ہے کہ ٹریبونل اسرائیل کے اختیارات اور اس کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے سے باز رہے گا۔
اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ایک با ضابطہ خط لکھ کر اپنے اعتراضات سے اسے آگاہ کرے گا۔ نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں عدالت کے فیصلے کو مضحکہ خیز بتایا تھا۔اسرائیل نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کو نہ تو کبھی تسلیم کیا اور نہ ہی وہ اس کا رکن نہیں ہے اس لیے اس کا موقف یہ ہے کہ عدالت کو ان کیسز کی سماعت کا کوئی حق نہیں ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ چونکہ فلسطین کوئی خود مختار ریاست نہیں ہے اس لیے وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمہ کرنے کی مجاز نہیں ہے۔لیکن ہیگ میں واقع بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ چونکہ سن دو ہزار پندرہ کے ایک معاہدے کے تحت اقوام متحدہ نے فلسطین کو ایک علیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کر رکھا ہے ،
اس لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو اس کے کیسز کی سماعت کا اختیار ہے۔ آئی سی سی کا موقف ہے کہ سن 1967کی جنگ کے بعد جن فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ ہے، وہ علاقے اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور ایسے علاقوں سے متعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت تحقیقات کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت کی وکیل فاتو بن سوڈا کا کہنا ہے کہ سن 2014 کے دوران غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے جو کارروائیاں کی تھیں، اس سے متعلق جنگی جرائم کی تحقیقات کی معقول بنیاد موجود ہے۔انہوں نے اس کے لئے اسرائیلی فوج اور فلسطینی حماس گروپ کو ممکنہ ذمہ دار بتایا تھا۔
سن 2014 میں اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان ہونے والی لڑائی میں 2251 فلسطینی ہلاک ہوئے تھے جس میں سے 1462 عام شہری تھے۔ اس لڑائی میں 67 اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔فلسطینی اتھارٹی نے آسی سی سی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت سے تعاون کرنے کو تیار ہے۔ فلسطینی دفتر خارجہ سے وابستہ ایک سینئر اہل کار عمر اعواد اللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنا جواب آئی سی سی کو بھیج دیا ہے۔
فلسطینی متاثرین کو انصاف دلوانے اور اسرائیل کو اس کے جرائم کے لیے جوابدہ بنانے کے مقصد سے عدالت کے ایک رکن ریاست کی حیثیت سے فلسطین کی جانب سے تفتیش میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔ فلسطین نے سن 2015 میں بین الاقوامی عدالت میں شمولیت اختیار کی تھی اورتب ہی سے جنگی جرائم کے کیسز کی تفتیش کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
اسرائیل نے سن 1967 کی جنگ کے بعد مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ جیسے فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی انہیں علاقوں پر اپنی مستقبل کی آزاد ریاست چاہتے ہیں۔ 2005 میں اسرائیل نے غزہ سے فوج واپس بلا لی تھی تاہم جب حماس نے اس علاقے میںاقتدار حاصل کیا تو اس کی ناکہ بندی کر دی تھی۔
عالمی برادری ایسے تمام علاقوں کو مقبوضہ علاقہ مانتی ہے جس کا فیصلہ امن مذاکرات کے تحت ہونا ہے۔ لیکن اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا علاقہ مانتا ہے اور اسے مستقبل کا اپنا دارالحکومت تصور کرتا ہے۔ اس معاملے میں امن مذاکرات گزشتہ تقریباً دس برسوں سے تعطل کا شکار ہیں۔



