بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل کی بمباری میں 43 فلسطینیوں کی شہادتیں؛حماس کے راکٹوں سے پانچ اسرائیلی ہلاک

دبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان بدھ کو مسلسل تیسرے روز لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 43 فلسطینی اور پانچ اسرائیلی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل نے بدھ کی علی الصباح حماس کے زیرِ اثر علاقے غزہ پر سیکڑوں فضائی حملے کیے جب کہ حماس نے بھی اسرائیل کے شہروں تل ابیب اور بیئر شیبہ پر متعدد راکٹ فائر کیے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کے جیٹ طیاروں نے بدھ کی علی الصباح حماس کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں حماس کے کئی اہم رہنما مارے گئے ہیں۔اسرائیل کی فوج کے مطابق اس نے حماس کے راکٹ لانچنگ پیڈز، دفاتر اور تنظیم کے رہنماؤں کے گھروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں موجود ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہو گئی جب کہ دوسری عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
فلسطین کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 43 تک پہنچ گئی ہیں جس میں13بچے اور تین خواتین بھی شامل ہے۔خبر رساں ادارے  ایسوسی ایٹڈ پریس  کے مطابق منگل کی شب اور بدھ کی صبح غزہ سے فائر ہونے والے راکٹ حملوں میں پانچ اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہے جب کہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ اس نے غزہ شہر میں رہائشی عمارت کو نشانہ بنانے کے جواب میں تل ابیب اور بیئر شیبہ کی جانب 210 راکٹ فائر کیے ہیں۔غزہ میں اسرائیل کی فضائی کارروائیوں اور مسجد اقصیٰ میں پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد اسرائیلی شہر لد میں آباد عرب اقلیتوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔لد کے مختلف مقامات پر پرتشدد مظاہروں کے دوران یہودی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہونے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔لد شہر میں یہودیوں کے علاوہ عرب باشندوں کی بھی بڑی تعداد آباد ہے۔
پولیس نے منگل کی شب لد، ام الفہم سمیت کئی عرب اکثریتی علاقوں سے درجنوں افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ "ہم ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ غزہ میں جنگ کی بھاری قیمت عام شہریوں کو چکانا پڑ رہی ہے۔”ٹور وینس لینڈ نے مزید کہا کہ تشدد کو روکیں، اقوامِ متحدہ تمام فریقین کے ساتھ مل کر امن کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔
عرب لیگ نے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں کو اندھا دھند اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ عرب ملکوں کی تنظیم کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ یروشلم میں خطرناک جھڑپوں کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ادھر حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یروشلم اور مسجدِ اقصیٰ میں جو آگ لگائی تھی اس کی چنگاریوں نے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور وہ اس کے نتائج کا بھی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قطر، مصر اور اقوامِ متحدہ رابطے میں ہے اور پرامن رہنے پر زور دے رہے ہیں لیکن ان کے بقول حماس کا اسرائیل کو یہ پیغام ہے کہ اگر وہ کشیدگی چاہتا ہے تو ہم مزاحمت کے لیے تیار ہیں اور اگر وہ کشیدگی ختم کرنا چاہتا ہے تو پھر بھی ہم مزاحمت کے لیے تیار ہیں۔اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری کشیدگی پر وائٹ ہاؤس نے منگل کو کہا تھا کہ راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا قانونی حق حاصل ہے۔

کشیدگی کے خاتمے کے لیے مصالحانہ کوششیں

اسرائیل اور حماس نے 2007 میں غزہ پر حماس کے کنٹرول کے بعد سے اب تک تین جنگیں لڑی ہیں اور فریقین کے درمیان متعدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔ حالیہ برسوں میں جو جھڑپیں ہوئی ہیں عام طور پر چند دن کے بعد ختم ہو جاتی تھیں اور اکثر اوقات قطر، مصر یا کوئی ملک پس منظر میں رہتے ہوئے مصالحانہ کردار ادا کرتا تھا۔
مصر کے عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک اس بار بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن حکام نے حساس سفارت کاری کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یروشلم میں اسرائیل کے اقدامات نے ان کی کوششوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ترکی اور پاکستان کی قیادت نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے جب کہ دونوں ملکوں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئی ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ فلسطین اور غزہ کے ساتھ کھڑے ہیں یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 2014 کی جنگ کے بعد حالیہ لڑائی کو ہلاکت خیز قرار دیا جا رہا ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر اس تشویش کو جنم دیا ہے کہ یہ لڑائی قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے بدھ کو ہنگامی اجلاس بلانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔اے پی  کے مطابق کونسل کے سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکہ کے خدشات کے پیشِ نظر سلامتی کونسل نے غزہ کی صورتِ حال پر بیان جاری نہیں کیا۔اقوامِ متحدہ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے سفیر برائے امن ٹور وینس لینڈ نے فوری طور پر لڑائی کے خاتمے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ تمام فریق قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button