اسلام کا پیغام قرآن میں اور قرآن ہمارا جزدان میں
محمد مصطفی علی سروری
شیوکمار کی عمر 28 برس ہے۔ اس کا تعلق دہلی سے ہے جبکہ امتیاز خانم کی عمر 22 برس ہے اور وہ بیدر کی رہنے والی ہے۔ ان دونوں کے درمیان جغرافیائی طور پر تقریباً 16 سو کیلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ بظاہر ان لوگوں کے درمیان رابطہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔ ایک تو جغرافیائی دوری اور سب سے اہم بات یہ کہ شیوکمار ہندو ہے اور امتیاز خانم ایک مسلمان لڑکی۔ ایسے میں ان کے آپسی رابطہ کے بارے میں سونچنا بظاہر محال نظر آتا ہے۔
کیونکہ ایسا بھی نہیں کہ ان دونوں کا ایک ہی کالج سے تعلق ہو، لیکن ٹیکنالوجی نے اب فاصلوں کو بے معنی بنادیا ہے اور خاص طور پر کرونا کی پابندیوں نے سوشیل میڈیا اور انٹرنیٹ کو ہر گھر پہنچانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں، سوشیل میڈیا ہمارے گھروں میں کیا گل کھلارہا ہے؟
شیو کمار اور امتیاز خانم کی بھی دوستی آن لائن ہوئی جی ہاں یہ دونوں فیس بک کے ذریعہ سے ایک دوسرے سے واقف ہوئے۔ یہ دوستی جلد ہی پیار میں بدل گئی۔ امتیاز خانم سے ملاقات کے لیے شیوکمار دہلی سے بیدر پہنچ گیا اور اخباری اطلاعات کے مطابق امتیاز خانم اور شیوکمار سب لوگوں کی نظروں سے چھپ چھپ کر ایک دوسرے ملنے لگے۔
دہلی سے ایک نوجوان بیدر پہنچ کر اس کے ساتھ عاشقی کرنے لگتا ہے تو یہ بات کب تک لوگوں کی نظروں سے چھپ کر رہتی جلد ہی لوگوں سے یہ بات امتیاز خانم کے گھر والوں کو بھی معلوم ہوئی۔ امتیاز کے گھر والوں نے اپنی مسلم لڑکی کی ایک ہندو لڑکے کے ساتھ دوستی پر اعتراض کیا اور لڑکی کو سمجھایا کہ یہ دوستی قابل قبول نہیں ہے اور نہ ہی یہ دوستی رشتے میں بدل سکتی ہے۔
شیوکمار کو جب امتیاز خانم کے گھر والوں کی مخالفت کا پتہ چلا تو اس نے امتیاز خانم کو بھگاکر اپنے ساتھ دہلی لے کر گیا۔ قارئین شیوکمار کوئی پڑھا لکھا اور قابل نوجوان نہیں تھا۔ اس نے امتیاز خانم کو بھگاکر مندر میں شادی کرلی۔ لیکن شادی کی ذمہ داریوں کو پوراکرنے بیوی کو پالنے، گھر چلانے کے لیے اس نوجوان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ تب اس نے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا اور امتیاز خانم کو اپنا ساتھی بنایا۔
قارئین یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ شیو کمار نہ تو کوئی ہنرمند تھا اور نہ ہی جرائم کی دنیا کا ماہر۔ اخبار تلنگانہ ٹوڈے میں 22؍ مارچ کو شائع شدہ ایک خبر کے مطابق حیدرآباد سٹی پولیس نے شیو کمار اور امتیاز خانم کے ساتھ روی نام کے ایک نوجوان کو ایک ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
نامپلی پولیس انسپکٹر خلیل باشا کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے پیسے کمانے کے لیے شیو کمار نے اپنی بیوی امتیاز خانم اور ایک شناسا روی کے ساتھ مل کر نامپلی ٹیکسی اسٹینڈ سے ایک کار کرایہ پر لی اور پھر ایک سنسان مقام پر کار کو روک کر کار کے مالک کو قتل کردیا اور کار کو صرف 14 ہزار روپیوں میں اسکراپ میں فروخت کردیا۔
شہر حیدرآباد کو اب جگہ جگہ سی سی ٹی وی کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے اور سٹی پولیس نے تھوڑی سی محنت کے بعد شیوکمار، امتیاز خانم کے ساتھ روی کو گرفتار کرلیا اور مقدمہ درج کر کے عدالت میں پیش کردیا۔ قارئین کرام امتیاز خانم کو اس کے گھر والوں کو گالی گلوج کرنا مسئلہ کا حل نہیں ۔شیوکمار کو کوسنا بھی کوئی سودمند کام نہیں۔
ذرا غور کیجئے گا کیا وجہ ہے امتیاز خانم جیسی لڑکی شیوکمار کے دام الفت میں پھنس جاتی ہے۔ یہاں تک کہ گھر کو گھر والوں کو چھوڑ کر ایک دوسرے مذہب کے نوجوان کے ساتھ بھاگ کر مندر میں شادی کرلیتی ہے۔
کسی کے ہاں جب لڑکی کی پیدائش ہوتی ہے تو سب سے پہلی سونچ یہی جنم لیتی ہے کہ اس لڑکی کی شادی کرنا اصل ذمہ داری ہے۔ حالانکہ اصلی ذمہ داری تو اس لڑکی کی تعلیم و تربیت ہے۔ تعلیم کی طرف توجہ تو اس لیے بھی دی جاتی ہے کہ لڑکی کو پتہ نہیں کل کے دن کیسا شوہر ملے گا۔ ایسے میں احتیاطی طور پر لڑکی کو کوئی ہنر یا پیشہ ورانہ تعلیم سے آراستہ کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے اور اس دوران اگر کوئی چیز چھوٹ جاتی ہے تو وہ تربیت کا پہلو ہے جس میں دین اور دنیا دونوں شامل ہیں۔
لوگ کیا کہیں گے، گھر والے کیا بولیں گے اور دنیا کیا بولے گی کہہ کر سب سے تو ڈرنے کی عادت ڈالی جاتی ہے اور بندہ کسی چیز کو بھول جاتا ہے تو خوفِ خدا ہے کہ خدائے تعالیٰ کو کیا جواب دیا جائے گا۔ اس بھول کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو ہم ادھر ادھر سے آنے والی آئے دن خبریں پڑھتے ہیں جن کو پڑھ کر ہر فکر مند مسلمان کانپ اٹھتا ہے۔
مسلمان ہونے کے ناطے ہم سب کی ذمہ داری قرآن مجید کو سمجھنے کی ہے۔ اس بنیادی نوعیت کی ذمہ داری کو چھوڑ کر ہم نے دنیا کی ہر چیز کو سیکھا۔ سمجھا اور برتنے کی کوشش کی۔
سوشیل میڈیا کا استعمال بھی ایسی ہی ایک چیز ہے۔ مسلمانوں کو اس پلیٹ فارم کا استعمال کیسے کرنا ہے کسی نے جاننے کی ضرورت نہیں سمجھی اور پھر مسلمان بغیر اپنی ذمہ داری کو سمجھے کہ سوشیل میڈیا کا استعمال کرنے لگے تو کیا ہوگا۔
بیدر کی امتیاز خانم کو شیوکمار کے ساتھ بھاگ کر مندر میں شادی کرنا بھی برا نہیں لگتا اور سوشیل میڈیا کے استعمال نے کس طرح کی بھیانک صورت حال پیدا کی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے اخبار دی ہندو میں شائع ہونے والی یہ خبر پڑھنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
تلنگانہ ہائیکورٹ میں ایک خاتون درخواست گذار کی فریاد اس حوالے سے اخبار نے لکھا ایک خاتون نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ سائبر کرائم سیل کو ہدایت دیں کہ وہ اس کو آن لائن ہراسانی سے بچائیں۔ تفصیلات کے مطابق شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون شادی کر کے اپنے شوہر کے ہاں آسٹریلیا چلی جاتی ہے اور اس شادی کے بعد وہ ایک بچے کی ماں بھی بنی اور یہ بچہ اب پانچ برس کا ہے۔ اس خاتون کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی بعض قابل اعتراض تصاویر کو سوشیل میڈیا پر وائرل کیا جارہا ہے۔
خاتون کی جانب سے اس کی ماں نے عدالت میں دائر کردہ درخواست میں کہا کہ خاتون کا ایک دوست تھا جس نے پہلے تو خاتون کو بلیک میل کرنا شروع کیا۔ کس بات کو لے کر بلیک میل کیا وہ بھی جان لیجئے۔ اخبار دی ہندو کی 22؍ مارچ کی رپورٹ کے مطابق وہ نوجوان اس خاتون کی نجی (پرائیویٹ) تصاویر چاہتا ہے جب خاتون نے اپنی پرائیویٹ تصاویر دینے سے منع کیا تو اس دوست نے خاتون کو دھمکی دی کہ وہ اپنی جان ختم کرے گا اور اس کی قصوروار وہی ہوگی۔
نوجوان کی اس دھمکی کے بعد خاتون نے اپنی پرائیویٹ تصاویر اس نوجوان کے ساتھ شیئر کردی۔ جب نوجوان کے ساتھ خاتون نے اپنی دوستی ختم کرلی تو اس نوجوان نے خاتون کی پرائیویٹ تصاویر کو سوشیل میڈیا کے ذریعہ سے عام کردیا۔
یہ جو پرائیویٹ تصاویر کے ذریعہ سوشیل میڈیا پر بلیک میلنگ کے واقعہ ہے یہ سال 2012ء کا ہے جی ہاں 8 برس پرانا ہے۔ اسی برس خاتون کی جانب سے پولیس میں باضابطہ طور پر شکایت کی گئی جس کے بعد یہ تصاویر سوشیل میڈیا سے ہٹادی گئی۔ خاتون کی شادی ہوگئی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ آسٹریلیا چلی گئی اور پھر وہاں پر وہ شوہر اور بچے کے ساتھ خوش حال زندگی گزار رہی تھی لیکن سال 2019ء میں اس خاتون کو ایک مرتبہ پھر تلخ تجربہ ہوا جب سوشیل میڈیا پر دوبارہ اس کی پرانی پرائیویٹ تصاویر اس کے اصل نام کے اکاونٹ کے ساتھ وائرل کی گئی۔
اب خاتون آسٹریلیاء میں ہے لیکن صورت حال سے پریشان ہوکر وہ اپنی ماں کے توسط سے تلنگانہ ہائیکورٹ میں پولیس سے مدد کے لیے درخواست داخل کرتی ہے اور پولیس سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس قصور وار کا پتہ چلاکر اس کے خلاف کاروائی کرے جو اس کی پرائیویٹ تصاویر کو سوشیل میڈیا پر وائرل کر رہا ہے۔ قارئین کرام بظاہر تو یہ ایک انفرادی مسئلہ نظر آتا ہے۔
لیکن سوشیل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی سزا بہت ساری نوجوان لڑکیاں بھگت رہی ہیں۔ ذرا سونچئے کیا اس طرح کے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔ کیا لڑکیوں کو ہو یا لڑکوں کو تربیت دینا ضروری نہیں ہے۔ کیا صرف دنیا کا ڈر بتانا کافی ہے۔ لوگ کیا کہیں گے بول دینا کافی ہے یا خوف خدا سکھانا، بتلانا اور سمجھانا ضروری ہے۔ کیونکہ لوگوں سے چھپ کر یا دنیا سے چھپ کر کام کیا جائے تو وہ صحیح ہوگا یا رب سے ڈر کر گذاری جانے والی زندگی کامیاب ہوگی۔
کیا ہم انجانے میں بچوں کو یہ تو سبق نہیں سکھا رہے ہیں کہ دنیا میں ہمیں زندگی گزارنے کے لیے لوگ کیا کہیں گے کا خیال رکھنا ہے بس؟ کیا بچوں کو اس بات کی تعلیم دینا ضروری نہیں ہے کہ مسلمان اس دنیا میں لاکھ آزاد رہے لیکن وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے رب کی مرضی کا پابند ہے۔
لڑکیوں کو یہ سکھانا کہ ہم مسلمان قرآن کو دستور حیات مانتے ہیں تو یہ ان پر ظلم نہیں ہے اور صرف لڑکیوں کو ہی کیوں لڑکوں کو بھی یہ سکھانا ضروری ہے کہ اس دنیا میں مسلمان کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہر قدم، ہر بات قرآن کی روشنی میں ہی کرنے اور اٹھانے کے لیے پابند ہے۔
اب اس طرح کی تربیت کے بغیر اور تربیت کے فریضہ کو چھوڑ کر بچوں سے یہ توقع کرنا ہے جب امتحان کا وقت آئے گا وہ سرخرو ہوکر نکلیں گے بے وقوفی ہے۔ قرآن کا ، دین کا، شریعت کا، سنت کا نصاب جب ہم نے پڑھایا ہی نہیں تو نوجوانوں سے اس پر عمل آوری کی توقع ہماری اپنی کوتاہی پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ قرآن کو پڑھنے اور اس کو سمجھنے اور بحیثیت مسلمان قرآن کے تئیں ہماری ذمہ داریوں کو پوار کرنے ہمت، طاقت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔



