
اغوا کیس میں پپو یادو کو ویر پور جیل بھیجا گیا ، پانی اور واش روم نہ ملنے جیل میں ہڑتال
ویر پور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک 32 سالہ پرانے اغوا کیس میں پٹنہ سے گرفتار سابق ا یم پی اور جن ادھیکار پارٹی کے سربراہ پپو یادو نے اب ویر پور جیل میں بدانتظامی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ منگل کی رات سے سوپول ضلع میں واقع ویر پور جیل میں بند پپو یادو نے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ بدھ کے روز نہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے لکھا کہ میں ویر پور جیل میں بھوک ہڑتال پر ہوں،یہاں نہ پانی ہے نہ واش روم۔ میری ٹانگ کا آپریشن ہوا ، لہٰذا بیٹھ نہیں سکتا۔ یہاں کموڈ تک نہیں ہے۔
کورونا مریضوں کی خدمت کرنا ، ان کی جان بچانا ، ڈرگ مافیا ، اسپتال مافیا ، آکسیجن مافیا ، ایمبولینس مافیا کو بے نقاب کرنا میرا جرم ہے، ان کے خلاف میری لڑائی جاری رہے گی ،تاہم منگل کی رات انہوں نے ویر پور جیل گیٹ کے ایس ڈی ایم اور دیگر عہدیداروں کو بتایا کہ ان کا علاج چل رہا ہے اور 24 گھنٹے ڈاکٹر کی نگرانی میں رہنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا انہیں جیل نہ بھیجا جائے ؛بلکہ اسپتال کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
اس پر ایس ڈی ایم کمار ستندر یادو نے کہا تھا کہ جو بھی سہولت ہوگی وہاں جیل انتظامیہ فراہم کرے گی۔واضح ہو کہ اس سے قبل بھی قیدیوں نے جیل میں بدانتظامی کی شکایت کی تھی ۔اب پھر پپو یادو کو جیل منتقل کردیا گیا ، ایک بار پھر جیل میں ناقص انتظام کی خبریں سامنے آرہی ہیں ۔



