
آنکھیں کھولیں،مسلم معاشرہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے
اندور :(اردودنیا.اِن)پیار کے نام پر دھوکہ ، ارتداد اور ہوسناکی کی خبریں آئے دن سوشل میڈیا پر نشر ہوتی ہیں ۔ کچھ دن قبل اسی ایم پی کے چھند واڑہ میں پیار کے نام پر مرتدہونے والی مسلم لڑکی رضوانہ کے نام نہاد شوہر کے ہاتھوں عبرتناک انجام کی خبر پرانی بھی نہیں ہوئی تھی کہ اندور میں وقوع پذیر اسی ذیل نے ایک واقعہ نے معاشرہ کی زبوں حالی ، بگڑتی نسل کی ستم خیزی اور والدین کی غفلت کو اجاگر کردیا ،جس سے مسلم معاشرہ کا سر شرم سے جھک گیا ہے ۔
اطلاع کے مطابق پیر کی دیر شب صدر بازار تھانہ کے علاقہ میں دو فریق میں نام نہاد ہوس ناک عشق کو لے کر تنازعہ ہوگیا ،اور آپس میں سنگ باری بھی ہوئی۔ لڑکی اور لڑکا دونوں سیکورٹی کے لئے پولیس تھانہ پہنچ گئے ، لیکن دونوں طبقہ کے لوگ وہاں بھی پہنچے ، پولیس نے دونوں کو تھانہ سے کھدیڑ کر بھگادیا ۔اس کے بعد پولیس نے دونوں کا بیان ریکارڈ کروایا۔بیان میں مسلم لڑکی ہندو لڑکے کے ساتھ رہنے پر بضد ہے ۔ لڑکی کے مطابق اگر اس سے الگ کیا گیا ، تو خودکشی کرلے گی ۔
صدر بازار پولیس کے مطابق یہ مسلم لڑکی (تانیہ فرضی نام )ایک ہندو لڑکے کے ساتھ گھر سے فرار ہوگئی تھی ۔ جب رات کے وقت پتہ چلا ،تو لڑکی کے اہل خانہ دونوں کو لے کر پولیس اسٹیشن پہنچے ، لیکن وہ ہندو لڑکے کے ساتھ جانے پربضد ہوگئی ۔ اس کی اطلاع ملنے پر ہندو تنظیم کے اراکین اور علاقہ کے غیرت مند نوجوان جمع ہوگئے، بحث و تمحیص کے بعددونوں طرف سے پتھراؤبھی ہوا تھانہ پہنچ کرتھانہ کا محاصرہ کرلیا۔ صورتحال کو دیکھ کر ایس پی مہیش چندر جین اور آشوتوش باگری ٹیم فورس کے ہمراہ موقع پرپہنچے ، اور موقعہ کو سنبھالنا پڑا ۔
پولیس کے مطابق دو دن قبل لڑکی کے اہل خانہ نے لڑکی کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس اسٹیشن میں درج کرائی تھی۔ پولیس نے لوکیشن ٹریس کرکے آر بندو علاقہ کا پتہ لگا ، جب پولیس نے انہیں دریافت کیا تو وہ سکیورٹی کیلئے پولیس کے ساتھ تھانے پہنچے ، جب دونوں فریقین کو دونوں کے ملنے کا پتہ چلا تو وہ بھی تھانے پہنچے اور آپس میں بھڑ گئے ، جس میں سنگ باری بھی ہوئی ۔
لڑکی کے بیان کے مطابق دونوں بالغ ہیں اور ایک ساتھ رہنے کی خواہش ہے ۔ایک دوسرے ویڈیو میں لڑکی کو یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ میری عمر 21 سال ہے اور میں بالغ ہوں،میں اپنی مرضی سے لڑکے کے ساتھ آئی ہوں، مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔
میں اس سے شادی کرکے زندگی گزارنا چاہتی ہوں، میں کسی اور سے شادی نہیں کروں گی ،میرے والدین مجھے مجبور کررہے ہیں۔ وہ میری کہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں، اگر مجھ پر زیادہ تشدد کیا گا، تو میں خودکشی کرلوں گی ۔



