بین ریاستی خبریں

انسانیت شرمسار : پولیس نے گنگا میں بہتی لاش نکال کر پیٹرول ٹائروں سے جلا یا، ویڈیو وائرل ہونے پر 5اہلکار معطل،

بلیا:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرونا کی تباہ کن دوسری لہر میں گنگا ندی میں انسانی لاشیں بہہ رہی تھیں ، تو نہ جانے کتنی لاشیں دریائے گنگا کے کنارے ریت میں دفن کردی گئیں۔ یوپی کے کئی شہروں سے ایسی لرزہ خیز تصاویر سامنے آئی ہیں۔ کئی اضلاع میں دریائے گنگا میں لاشیں ملنے کے بعد یوپی حکومت نے دریائے گنگا کی گود میں پڑنے والے اضلاع میں سختی بڑھا ئی تھی، گنگا گھاٹوں پر بھی پولیس کو تعینات کیا گیا تھا۔

حکومتی سختیوں کے باوجو د دریائے گنگا میں اب بھی لاشیں بہہ رہی ہیں۔ مقامی انتظامیہ ان لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں مصروف ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ بلیا میں سامنے پیش آیا ، جہاں پولیس اہلکاروں نے لاش کو گنگا سے نکال کر اس پر پٹرول چھڑک کر ٹائرکے ذر یعہ آگ لگا دی۔اطلاع کے مطابق مالدے پور بلیا میں پولیس اہلکاروں نے گنگا میں بہتی لاشیں نکال کر چتا پر لکڑی کے ساتھ ٹائر بھی رکھ دیئے ۔

بعد ازاں اس میں آگ لگا ’’داہ سنسکار‘‘کر دیا۔ ایس پی وپن ٹاڈا نے بتایا کہ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے ، جس میں پولیس اہلکار پٹرول اور ٹائرکے ذریعہ لاشیں جلا رہے ہیں۔ اس معاملہ میں عدم حساسیت کی وجہ سے وہاں تعینات 5 پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ایک معروف ہندی روزنامہ نے دریائے گنگادفن لاش کا انکشاف کیا تھا۔

 اس انکشاف میں کہا گیا تھاکہ گنگا کے کنارے واقع 27 اضلاع میں 2 ہزار سے زیادہ لاشیں دفن ہیں۔ کئی اضلاع میں گنگا کے کنارے لاشیں ملی ہیں۔اس خبر کے بعد ریاستی حکومت نے ایس ڈی آر ایف اور پولیس کو حکم دیا کہ اگر وہ کسی کی لاش کو گنگا نذرِ گنگا کرتے دیکھے تو اس کے خلاف کارروائی کرے، اس پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

یوپی کےوزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ حکومت تمام لاشوں کی مذہبی روایات کے مطابق آخری رسومات ادا کئے جائیں ، اس کے لئے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button