بین ریاستی خبریں

اورنگ آباد کا نام ہرگز بدلنے نہیں دیں گے :ڈاکٹر سید ذیشان احمد

ممبئی :اورنگ آباد میں بلدیاتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور شیوسینا نے ایک مرتبہ پھر شہر کا نام اورنگ آباد سے بدل کر سمبھاجی نگر بنانے کا منصوبہ کیا ہے ۔اقتدار میں شریک ہونے کے باوجود کانگریس نے اپنی ناراضگی ظاہر کر دی ہے ہم مہاراشٹر کانگریس کے صدر اور وزیر محصول بالا صاحب تھوراٹ کا یہ بیان جس میں انہوں نے ایک روز قبل ہی واضح طور پر کہا تھا کہ اورنگ آباد کا نام بدلے جانے کی کوئی بھی تجویز مہاراشٹر وکاس اگھاڑی سرکارکے سامنے آنے پر ان کی پارٹی اس کی مخالفت کرے گی ۔

مہاراشٹر کانگریس کے صدر بالا صاحب تھوراٹ کے اس بیان کی ہم ٹھوس طریقے سے حمایت کرتے ہیں کیونکہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کا بھی یہی رخ ہے کہ بجائے کسی شہر کا نام تبدیل کیئے جانے کے عام لوگوں کی تکلیف کو دور کیا جائے اور اورنگ آباد ایک تاریخی شہر ہے اور اس کی اپنی ایک شناخت ہے ۔ پارٹی کارکنان سے وایا ویڈیو کانفرنسنگ مخاطب مہاراشٹر کانگریس کے سکریٹری ڈاکٹرسید ذیشان احمد نے مذکورہ باتیں کہتے ہوئے اپنی پارٹی کےسینئر رہنماؤں کے اسٹینڈ کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی مراٹھا ہیروز کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی ان کی یادگاریں بنائے جانے کی مخالفت کرتی ہے بلکہ کانگریس نے ہمیشہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے

لیکن اس کے ساتھ ہی محض حقیر سیاسی مفاد کیلئے تاریخی حقائق سے کھلواڑ کرنے کی بھی ہرگز اجازت نہیں دیتی ۔ مہاراشٹر کانگریس کے سکریٹری نے امید ظاہر کی کہ شیوسینا گٹھ بندھن دھرم کو نبھائے گی اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جس سے مہاوکاس اگھاڑی میں شامل کسی بھی پارٹی کے جذبات مجروح ہوں کیونکہ مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت بناتے وقت جو کامن منیمم پروگرام مل کر بنایا گیا تھا اس میں اورنگ آباد کا نام بدلے جانے کا ذکر نہیں ہے اس کے باوجود اگر شیوسینا ضد پر اڑ گئی تو کانگریس پوری کوشش کرے گی

مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو اس فیصلے سے روکا جا سکے ۔ ڈاکٹر سید ذیشان احمد نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں ایک مستحکم حکومت قائم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ گٹھ بندھن کی سب سے بڑی پارٹی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جس سے بی جے پی کو تقویت ملے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے شیوسینا کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اس کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے

جبکہ ادھو ٹھاکرے کی حکومت کانگریس صدر محترمہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے آشیرواد سے وجود میں آئی ہے اور کانگریس کے بغیر اپنا وجود بھی قائم نہیں رکھ سکتی اس لئے شیوسینا کوئی ناسمجھی والا رویہ نہیں اپنائے گی اور جو کامن منیمم پروگرام طئے کیا گیا ہے اسی پر عمل کرے گی.

مضامین

متعلقہ خبریں

Back to top button