ہندوستان میں دہشت پھیلانے اور نوجوانوں کوآئی ایس آئی ایس میں بھرتی کرانے کامعاملہ مجرم کوعدالت نے سنائی 7 سال قید کی سزا
نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)ہندوستان میں دہشت گردی پھیلانے کے نام پر پیسہ لینے اور نوجوانوں کوورغلانے کرآئی ایس آئی میں بھرتی کرانے کے الزام میں عمران خان پٹھان عرف قاسم کو سزا سنائی گئی ہے۔ دہلی کے پٹیالہ ہاؤس میں خصوصی این آئی اے عدالت میں قاسم کو 7 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔
اس کے دیگر ساتھیوں میں سے ہر ایک کو 10 سال کی سزا سنائی جاچکی ہے۔این آئی اے کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ یہ کیس 2015 میں مختلف فوجداری دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ نیز اس معاملے میں یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ دہشت گرد تنظیم داعش کچھ افراد کو ہندوستان میں اپنا اڈہ بنانے کے لئے بھرتی کررہی ہے۔
اس معاملے میں بہت سارے لوگوں کا نام سامنے آیا تھا، یہ بھی معلوم ہواتھا کہ یہ لوگ نوجوانوں کو ورغلانے اور انہیں داعش میں بھرتی کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔این آئی اے کے اعلی افسر کے مطابق اس معاملے میں تفتیش مکمل ہونے کے بعد عدالت میں عمران خان عرف قاسم سمیت مجموعی طور پر 17 افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی تھی۔ ان میں سے 16 افراد کو پہلے ہی عدالت 10 سال کی سزا سناچکی ہے، جبکہ عمران کو بعد میں پکڑا گیا تھا۔
عمران کے معاملے کی تفتیش کے دوران پتہ چلا کہ اس سازش کا بانی شام میں بیٹھا آئی ایس آئی ایس کا ہینڈلر تھا اور جنید الخلیفہ فی الہند نام سے اس کا ساتھی دہشت گرد تنظیم تشکیل بنانے کے عمل میں تھا۔
یہ انکشاف بھی ہوا کہ عمران خان داعش کے ہینڈلر یوسف الہندی عرف شفیع ارمار سے براہ راست رابطے میں تھا اور انہوں نے شفیع ارمار کی جانب سے اپنے ایک ساتھی مدبیر مشتاق سے 50000 وصول کئے تھے۔




