
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
محمد مصطفی علی سروری
ایک مرتبہ میرے استاد محترم نے مجھے اپنے قریب بلایا اور پوچھا کہ تم رشوت لیتے ہو، میں نے ادب سے عرض کیا کہ حضرت میں تو ایک ٹیچر ہوں اور آپ کو تو معلوم ہی ہوگا کہ ٹیچر کو کہاں رشوت ملتی ہے اور رشوت تو حرام ہوتی ہے اور ٹیچر حرام کے لقمے سے محفوظ ہوتا ہے۔
استادِ محترم نے کہا کہ تم ٹیچر ہو تو تمہاری بھی ذمہ داری ہے کہ حرام کے لقمے سے خود بھی بچو اور اپنے بچوں کو بچائو۔ میں نے ادب سے پوچھا کہ وہ کیسے مولوی صاحب؟ تو میرے استاد محترم نے مجھ سے دریافت کیا کہ اگر کسی دن تم اپنی جماعت کو تاخیر سے پہنچتے ہو تو کیا تم سے کوئی بازپرس ہوتی۔ میں نے کہا کہ بالکل نہیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ تم دیر سے دفتر پہنچتے ہو تو کیا تمہاری تنخواہ میں کٹوتی ہوتی ہے، میں نے کہا بالکل نہیں۔
انہوں نے مزید دریافت کیا کہ کیا تمہیں موقع ملتا ہے کہ تم کسی دن اپنے دفتر نہیں جائو اور اگلے دن جاکر دستخط کردو تو میں نے کہا کہ بالکل اس طرح ہوسکتا ہے تو استاد محترم نے بڑی شفقت سے کہا کہ یہی تو حرام کا لقمہ ہے کہ تم اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کرو۔ پھر بھی تمہیں پوری تنخواہ ملے۔ تم اپنے اوقات کی پابندی نہ کرو پھر بھی تم سے کوئی پوچھ نہ ہو اور کسی کی پوچھ نہ ہونے کے سبب کوئی کوتاہیوں کو اپنا روز کا معمول بنا لے یہی تو بد دیانتی ہے اور رشوت کی طرح حرام ہے۔
قارئین آج کے کالم کا آغاز میں نے جن مولوی صاحب کے ذکر سے کیا وہ دراصل ہیں جن کو مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ دراصل یہ سال 1986ء کی بات ہے جب میرے والد صاحب نے میرا داخلہ جامعہ مسجد معظم پورہ کے زیر اہتمام چلائے جانے والے جز وقتی شعبۂ حفظ میں کروایا تھا۔
یہ شہر حیدرآباد کے منفرد اور اپنی نوعیت کا اکلوتا شعبۂ حفظ تھا جو جز وقتی یعنی دن بھر میں صرف 3 گھنٹے کام کرتا تھا اور یہاں پر وہ طلباء حفظ قرآن مجید کرتے تھے جو دن میں عصری علوم حاصل کرنے اسکول اور کالجس کو جایا کرتے تھے۔ گذشتہ (35) برسوں سے شعبۂ حفظ سے میرا تعلق ہے۔ میں نے حفظ قرآن مجید تو مکمل نہیں کیا لیکن اس طویل عرصے کے دوران استادِ محترم مولانا شاہ محمد بن عبدالرحمن صاحب الحمومی مدظلہ العالی کے آگے بیٹھ کر زندگی کے بہت سارے سبق سیکھے۔
ویسے تو مولانا محترم سے میرا تعلق بطور مقتدی شروع ہوا کیونکہ جب مجھ میں مسجد جاکر نماز پڑھنے کا شعور بیدار ہوا تو اس وقت حضرت جامع مسجد معظم پورہ، ملے پلی میں عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں میں امامت فرمایا کرتے تھے۔
اسلامی تشخص اختیار کرنے، دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی توجہ دینے سے لے کر اکل حلال اختیار کرنے، برائیوں سے بچنے اور اپنی صحت کا خیال رکھنے، غرض کونسا ایسا موضوع ہوگا جس پر حضرت قبلہ نے توجہ نہیں دلائی ہو۔
شعبۂ حفظ، ملے پلی میں ہر اتوار کو مدرسہ کے اوقات کے بعد طلباء کی دینی تربیت کے لیے وعظ و نصیحت کا معمول تھا۔ کتاب حدیث، آدابِ زندگی اور دینی کتب کو پڑھ کر سنایا جاتا۔ طلباء کی نمازوں کا جائزہ لیا جاتا تھا اور مولانا محترم اس بات پر زور دیتے تھے کہ شعبۂ حفظ کے طلبہ کا حفظ قرآن مجید اسی وقت آسان ہوسکتا ہے جب وہ نمازوں کی باجماعت ادائیگی کو معمول بنالیں۔
آسان زبان میں اور دکنی لہجہ میں طلبہ کو ایسی نصیحتیں کرتے کہ سنتے ہی سیدھے دل میں اتر جاتی اور اپنا اثر دکھاتی۔ آنکھوں کی، زبان کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے فرماتے تھے کہ یہ بڑے گناہوں کا راستہ کھولنے والی چیزیں ہیں اس لیے ان سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
35 برسوں کے طویل رفاقت کے دوران اپنے استاد محترم سے شائد ہی عملی زندگی کا کوئی سبق ایسا ہو جو میں نے نہیں سیکھا۔ یا استاد محترم نے نہ سکھایا ہو۔ میری خوش قسمتی یہ تھی کہ میری اکثر تحریریں آپ جناب کی نظروں سے گذرتی تھی اور جب بھی موقع ملتا آپ بعض عنوانات، اُمور اور مسائل پر توجہ مبذول کرواتے تھے۔
حضرت مولانا شاہ محمد بن عبدالرحمن الحمومی صاحب اگرچہ کہ ایک جز وقتی (تین گھنٹوں) شعبۂ حفظ کے صدر مدرس اور بانیوں میں سے تھے اور مجھے یہ بھی احساس ہے کہ آپ کو ان خدمات کا جو اعزازیہ ملتا تھا وہ بھی برائے نام تھا لیکن حضرت کا جذبہ خدمت ایسا تھا کہ قرآن سننے، سنانے اور پڑھانے کے لیے اپنے آپ کو کبھی بھی ان تین گھنٹوں تک محدود نہیں رکھا۔
ملے پلی شعبۂ حفظ کے طلباء کو اپنے ساتھ باغ عامہ، گھر کو آنے کو کہتے اور بعد عشاء تا فجر اور پھر جمعہ کے دن فجر کے بعد طلباء کا آموختہ، سبق پارہ، سبق سنتے اور آگے سبق دیتے تھے اور عالم یہ تھا کہ طلبہ کی سہولت کے لیے اور رات دیر گئے تک انہیں قرآن مجید پڑھنے میں مدد ملے اس کے لیے چائے اور کھانے، دیگر ریفریشمنٹ کا بھی اہتمام کرتے تاکہ طلبہ میں جوش و جذبہ بدستور برقرار رہے۔
استاد محترم کی 35 سالہ طویل شاگردی میں ایک بات جو میں نے نوٹ کی کہ حضرت قبلہ نے ہمیشہ قناعت پسندی کو ترجیح دی۔ حالانکہ جامع مسجد معظم پورہ، ملے پلی میں امامت و خطابت اور پھر شاہی مسجد باغ عامہ میں امامت و خطابت کے دوران ایسے بے شمار لوگوں سے ملاقات رہی اور ایسی کئی لوگ بطور مصلی بطور مقتدی حضرت کے پیچھے رہتے جو حضرت کے کسی بھی پراجیکٹ یا تجویز پر سرمایہ کاری کرنے تیار تھے لیکن دنیا نے اس چیز کو نوٹ کیا کہ کئی غیر مقامی ائمہ و خطیب شہر حیدرآباد آکر جلد ہی اس طرح کے پراجیکٹس میں دلچسپی لینے لگے اور اپنے نام پر ایسے اثاثہ کھڑے کیے کہ ان کے بعد اثاثوں کی تقسیم پر جھگڑوں کی تک نوبت آگئی۔
آخری دم تک بھی حضرت قبلہ شاہی مسجد باغ عامہ سے متصل اپنی قیام گاہ میں ہی رہے اور 12؍ فروری 2021 ء کو جمعہ کے دن تھا تو اس دن بھی نماز فجر باجماعت ادا کی۔
صرف فجر کی نماز ہی نہیں بلکہ مولانا محترم کے فرزندان کے حوالے سے جو بات معلوم ہوئی وہ یہ کہ حضرت قبلہ جمعہ کی شب قبل نماز فجر اپنی عبادات کے معمول کو بھی بہ دستور برقرار رکھا اور بعد نماز فجر حسب معمول دو رکعت شکرانہ بھی ادا کی۔ بعد نماز جمعہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔
قرآن مجید کی تعلیم دیتے ہوئے ہمیشہ تلقین کرتے کہ قرآن کو سنوار کر پڑھو،
ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اور مجھ سے کہتے کہ تم قرآن کے معنوں پر غور کرو اور قرآن سے اپنے رشتے کو ہمیشہ مضبوط رکھو۔حضرت قبلہ جب بھی اپنے ساتھ کہیں سفر پر لے جاتے تو آداب سفر سکھلاتے۔ دعوت میں لے جاتے تو کھانے کے آداب بتلاتے،
کبھی سواری پر ساتھ میں ہوتے تو سڑک کے آداب کی پاسداری کرنے کی ترغیب دلاتے اور ہمیشہ کہتے تھے کہ پیسے کے پیچھے مت بھاگو اور دلوں سے پیسے کی محبت نکالنے کے لیے ہر طالب علم سے کہتے کہ 10 پیسے ہی کیوں نہ ہو صدقہ، خیرات کرو۔ کیونکہ مالدار تو خیرات کرتا ہی ہے اس لیے کہ اس کے ہاں مال ہے لیکن طالب علم اپنے جیب خرچ سے بچاکر جو صدقہ کرے گا اس کا اجر زیادہ ہوگا۔ کیونکہ فرماتے اللہ رب العزت لوگوں کو ان کی نیتوں کے حساب سے اجر دے گا۔
طلبہ جب نئے نئے شعبۂ حفظ میں داخلہ لیتے تو ان سے سب سے پہلا تربیتی سوال یہی کرتے کہ یہ بتائو تم حفظ قرآن مجید کیوں کرنا چاہتے ہو اور پھر ان کو نصیحت کر کے سمجھاتے کہ قرآن کو حفظ کرو مگر صرف رضائے الٰہی کی خاطر جو طلبہ جواب دیتے کہ والد صاحب کی خواہش تھی یا ہمارے ماموں کی خواہش تھی یا ہمارے داداد نے وصیت کی تھی تو فرماتے کہ اپنی نیت کی اصلاح کرلو بہت زیادہ اجر ملے گا۔
حالانکہ ملے پلی مسجد کمیٹی نے استاد محترم کی طویل خطابت و امامت کی خدمت سے سبکدوشی کے موقع پر ان کے شایانِ شان معاملہ نہیں کیا۔ لیکن اپنے طالب علموں میں بڑے مولوی صاحب کے لقب سے مشہور استاد محترم نے اپنے بڑے ہونے کا عملی ثبوت دیا اور رضاکارانہ سبکدوشی کے باوجود بھی شعبۂ حفظ میں اعزازی طور پر وقتاً فوقتاً قرآن مجید سننے، سنانے، قرآن پڑھانے کے سلسلے کو جاری رکھا۔
بڑے مولوی صاحب کی سادگی اور نفاست کا یہ عالم تھا کہ اکل حلال کے لیے بڑی مسجد کے نام سے مشہور جامع مسجد معظم پورہ، ملے پلی کی ایک ملگی میں اپنا مطب چلانا پسند کیا۔ لیکن کسی کا احسان لینا گوارہ نہیں کیا۔ سادگی اور تقویٰ کا یہ عالم کہ مسجد کے پاس موز فروخت کرنے والے کو بھی اپنے پاس بلاکر بٹھالیتے اور دین کی موٹی موٹی باتیں، نماز اور قرآن پڑھنے کی ترغیب دلاتے تھے۔
چھوٹے چھوٹے بچوں سے بات کرتے تو ایمانداری کی تعلیم دیتے۔ فرماتے کہ کسی دوکان سے خریداری کرنے جائو تو یہ بات ذہن میں رکھو کہ دوکاندار چاہے نہ دیکھ سکے لیکن اللہ رب العزت مجھے دیکھ رہا ہے۔ اس لیے بغیر اجازت، بغیر پیسے دیئے کوئی بھی چیز نہیں اٹھانا۔ اپنے گھر میں بھی بغیر اجازت لیے کوئی چیز مت کھانا۔
کیونکہ وہ بھی چوری ہے کہ ماں کی نظروں سے چھپاکر کچھ کھالیا یا بغیر پوچھے کچھ لے لیا ۔ اس سے منع کرتے۔ ہمیشہ فرماتے کہ اپنے دل کو اپنے رب کی محبت سے آباد رکھو اور کہتے کہ پیسے کی جگہ جیب ہے اور رب کی جگہ دل ہے۔ جس دل میں پیسے کی محبت ہوگی وہاں رب نہیں ہوسکتا۔
دن کے چوبیس گھنٹوں میں صرف تین گھنٹوں کے لیے قرآن مجید پڑھنے والوں کی تربیت کرنا بہت بڑا چیالنج تھا۔ بڑے مولوی صاحب نے اس چیالنج کو اپنی ساری زندگی نبھایا۔ اسی کا ثبوت ہے کہ اس جز وقتی شعبۂ حفظ (ملے پلی، بڑی مسجد) سے سند حفظ قرآن مجید حاصل کرنے والے طلباء آج دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔
یہ وہ حفاظ ہیں جنہوں نے عصری علوم میں ایم بی بی ایس کی سند بھی حاصل کی۔ علی گڑھ سے پی ایچ ڈی بھی کی۔ انجینئر بھی بنے۔ فارمسٹ بھی بنے اور بینکر بھی بنے، ٹیچر بھی بنے، منیجر بھی بنے اور سرکاری ملازم بھی بنے اور ان سب نے 3 گھنٹوں کے مدرسہ سے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کرتے ہوئے ثابت کیا کہ تعلیم تین گھنٹوں کی ہو لیکن تربیت اچھی ہو اور اللہ کا فضل ہو تو یہ تین گھنٹے دن کے بقیہ اکیس گھنٹوں پر بھاری رہتے ہیں۔
عزیز قارئین بڑے مولوی صاحب آج ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کے سکھلائے سبق آج بھی ہماری زندگیوں میں روشنی بکھیرنے کا کام کر رہے ہیں۔ سال 2000ء کی بات ہے جب میرے والدین مجھے سفر حج کی دعوت دے رہے تھے اور مجھے اس بات پر تامل تھا کہ میں ابھی پڑھائی کر رہا ہوں اور مجھے اپنے بھائیوں کے پیسے سے حج نہیں کرنا چاہیے۔
اس وقت حضرت قبلہ نے مجھے ترغیب دی کہ سفر حج پر اللہ جس کو بلاتا ہے وہی لوگ حج کرسکتے ہیں۔ آج تم حج کرلو کل جب تمہیں اللہ تعالیٰ نوازے گا تم اپنے بھائیوں کے ساتھ ان کے بچوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔
الحمد للہ میرا حج سال 2000ء میں ہی بفضل تعالیٰ پورا ہوا۔ سال 2004ء کی بات ہے جب میرے والدین میری شادی کی بات کر رہے تھے مجھے یہ احساس تھا کہ جتنی کم میری تنخواہ ہے اس سے میں شادی کے بعد کی ذمہ داریاں کیسے پورا کرپائوں گا۔
والد صاحب نے بڑے مولوی صاحب سے شکایت کردی تو حضرت قبلہ مجھے بلا بھیجے اور نصیحت کی کہ نالائق اپنے ایمان کو درست کرلے۔ یہ کیوں خیال کرتا ہے کہ شادی کے بعد بیوی کو تو پالے گا۔ کل تک جو لڑکی اپنے باپ کے پاس رزق حاصل کر رہی تھی وہ تیرے نکاح میں آجائے گی تو اس کا رزق اللہ تعالیٰ تجھے دے گا۔ کیونکہ ہم سب کا ایمان ہے کہ ہم سب کو پالنے والا وہ ایک اللہ ہے اور کہا کہ یہی تیرے ایمان کا امتحان ہے۔
بیس پچیس برس پہلے کی بات ہے حضرت قبلہ فرماتے تھے کہ سروری تم صحافی ہو تو مسلمانوں کی توجہ اس بات پر مبذول کروائو کہ محنت کرنے سے جی نہیں چرانا چاہیے۔ پھر چاہے وہ حجامت کا ہی کام کیوں نہ ہو۔ فرماتے کہ یہ کیسا مسلمان ہوگیا ہے جو اپنا سر دوسروں کے ہاتھوں میں دینے کے بعد بھی آرام سے بیٹھتا ہے۔
مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ کی مثال دیتے کہ وہاں تو سارے کام صرف مسلمان ہی کرتے ہیں۔ پھر ہندوستان خاص کر تلنگانہ میں مسلمانوں کی سوچ پیشوں کو لے کر الگ کیوں ہوگئی ہے۔ بڑی مولوی صاحب کی ترغیب پر جب شائد سال 2005ء میں میں نے ایک مضمون اصلاح خانوں کے متعلق نقطہ نظر میں اصلاح کی ضرورت لکھا تو پڑھنے کے بعد آپ نے پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
اپنی ہر حاجت کو اللہ سے رجوع کرنے کی تعلیم و ترغیب دیتے ہوئے فرماتے کہ بندہ بندے کو دے بھی کیا سکتا ہے۔ کیونکہ بندے کا دیا پرتا نئیں اور اللہ کا دیا سرتانئیں۔
ہمیشہ قرآن پر غور و فکر کرنے کی دعوت دینے والی یہ ہستی اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم سے رخصت ہوگئی ۔ لیکن جاتے جاتے بھی یہ پیغام دے گئی کہ موت سے پہلے زندگی کو غنیمت جانو اور مرنے سے پہلے اپنے توشۂ آخرت کو تیار کرلو۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ حضرت بڑے مولوی صاحب کے درجات کو بلند سے بلند کرے۔ لواحقین کو صبر عطا فرمائے اور ہم سبھی کو آپ کے قرآنی مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ یارب العالمین۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
محمد مصطفی علی سروری




