ملبورن : (ایجنسیاں) یہ قدرتی آفت اسی خطے میں ٹھیک ایک برس قبل جنگلوں میں لگنے والی زبردست آگ کی وجہ سے غیر معمولی ماحولیاتی تبدیلی کے بعد آئی ہے۔آسٹریلیا کے جنوب مشرق میں پیر کے روز بھی موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے سڈنی کے شمال میں گزشتہ ایک سو برس کے دوران سیلاب کی بد ترین صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے اور دو سو سے زائد اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔
آسٹریلیا کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ نیو ساؤتھ ویلس اتوار کے روز آنے والے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ حکام نے ’زندگی کو ممکنہ خطرہ لاحق‘ ہونے والی صورت حال کی وارننگ جاری کر دی ہیں۔نیو ساؤتھ ویلس پولیس اور ایمرجنسی سروسز کے وزیر ڈیوڈ ایلیٹ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ نیو ساوتھ ویلس کے سولہ علاقوں کو ’آفت زدہ‘ قرار دے دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مدد کے لیے یوڈی حکام کو ہزاروں فون کال موصول ہوئیں۔حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اب تک اٹھارہ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا یا گیا ہے جب کہ پیر کی صبح کو مزید دو ہزار افراد کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حالانکہ ابھی تک کسی ہلاکت یاکسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے تاہم حکام نے ’زندگی کو ممکنہ خطرہ لاحق‘ ہونے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات نے فی الحال ’تشویش ناک‘ صورت حال بنے رہنے کی پیشنگوئی کی ہے اور کہا ہے کہ اس ہفتے کے اواخر تک حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعظم گلیڈیز بریجک لیان نے کہا کہ اس خطے میں گزشتہ ایک سو برس کے دوران ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے اسے قومی آفت اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مغربی سڈنی میں بعض مقامات پر جمعہ کے روز سے اب تک 300 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے جس نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔




