بین الاقوامی خبریں

ایران: مسافر طیارہ گرانے کے معاملہ میں افسران کیخلاف فرد جرم عائد

تہران:(ایجنسیاں)ایران نے یوکرائن کے ایک مسافر طیارے کو غلطی سے مار گرانے کے سلسلے میں دس فوجی افسران کے خلاف فرد جرم عائد کر دی ہے۔ایران میں استغاثہ نے بتایا کہ ایک فوجی عدالت نے گزشتہ برس جنوری میں یوکرائن کے ایک مسافر طیارے کو غلطی سے مار گرانے کے سلسلے میں دس افسران کے خلاف فرد جرم عائد کر دی ہے۔

ایران میں پاسدارن انقلاب سے وابستہ محافظوں نے یوکرائن انٹرنیشنل ایئر لائن کے ایک مسافر طیارے کو تہران سے پرواز بھرنے کے فوری بعد غلطی سے مار گرایا تھا۔ اس واقعے میں عملے سمیت جہاز پر سوار 176 مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ایران نے واقعے کے فوری بعد اس کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا تھا تاہم بعد میں یہ بات تسلیم کی تھی کہ اس کی فوج کی جانب سے ایک بہت بڑی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی آئی ایس این اے (اسنا) نے تہران صوبے کے مستغیث غلام عباس طورکی کے حوالے سے لکھا ہے،یوکرائن کے طیارہ حادثے میں ملوث 10 افسران کے خلاف فرد جرم عائد کردی گئی ہے، اور باقی عدالت میں ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔اس حادثے میں ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق گرچہ ایران اور یوکرائن سے تھا تاہم کینیڈا، افغانستان، برطانیہ اور سویڈین کے کچھ شہری بھی اس میں سوار تھے جو جل کر خاک ہو گئے۔

بعد میں تہران نے اس معاملے میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ایسے وقت جب وہ کافی ہائی الرٹ کی صورت حال میں تھے، اس کے فورسز کی جانب سے تباہ کن غلطی سرزد ہوئی۔اس سے چند روز قبل ہی ایران کے فوجی جنرل قاسم سلمانی کو امریکا نے بغداد میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا اور اس کے چند گھنٹے بعد ہی ایران نے بھی جوابی کارروائی کے تحت عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جس کی وجہ سے حالات کافی کشیدہ تھے۔

طیارہ حادثے سے متعلق ایران نے گزشتہ ماہ 285 صفحات پر مشتمل جو رپورٹ جاری کی تھی اس میں اس حادثے کے لیے انسانی غلطی کو سبب قرار دیا گیا ہے اور ہر ایک متاثرہ شخص کے لواحقین کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی رقم بطور معاوضہ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button