قومی خبریں

 ایک کروڑ 24 لاکھ ویکسین کا آرڈر دیا ہے: جموں و کشمیر حکومت

سری نگر:(اردودنیا.اِن)جموں و کشمیر میں کووڈ 19 ویکسین کی عدم دستیابی کی شکایتوں کے بیچ حکومت نے کہا ہے کہ 18 سے 45 سال کی عمر کے لوگوں کی ٹیکہ کاری کے لئے ایک کروڑ 24 لاکھ ویکسین ڈوزز کا آرڈر دیا گیا ہے۔ حکومت نے کہا کہ جہاں 18 سے 45 سال کی عمر کے لوگوں کی ٹیکہ کاری کے لئے پیشگی رجسٹریشن کوون ویب سائٹ اور موبائیل ایپلی کیشن پر شروع ہو چکی ہے، وہیں ویکسینیشن مہم مقررہ تاریخ یعنی یکم مئی 2021 سے شروع نہیں ہو رہی ہے۔

انتظامیہ نے کہا ہے کہ ویکسین سپلائی دستیاب ہو جانے پر متذکرہ عمر کے زمرے میں آنے والے لوگوں کی ٹیکہ کاری شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے یہ تفصیلات جمعے کو محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر کئی سلسلہ وار ٹوئٹس میں فراہم کیں۔ ویکسین ڈوزز منگوانے سے متعلق کہا گیا کہ جموں و کشمیر نے 18 سے 45 سال کی عمر کے لوگوں کی ٹیکہ کاری کے لئے ایک کروڑ 24 لاکھ ویکسین ڈوزز کا آرڈر دیا ہے۔

18سے 45سال کی عمر کے لوگوں کی ویکسینیشن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جہاں 18 سے 45 سال کی عمر کے لوگوں کی ٹیکہ کاری کے لئے رجسٹریشن کوون ویب سائٹ اور موبائیل ایپلی کیشن پر شروع ہو چکی ہے، وہیں ویکسینیشن یکم مئی 2021 سے شروع نہیں ہو رہی ہے۔ ویکسین سپلائی دستیاب ہو جانے پر ٹیکہ کاری شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ایک اور ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ ویکسینیشن کے لئے پیشگی رجسٹریشن ضروری ہے۔

ابھی تک سلاٹوں کو بکنگ کے لئے نہیں کھولا گیا ہے۔ اس کے لئے آپ ویکسینیشن شروع کرنے کی تاریخ کے اعلان کا انتظار کریں’۔ ایک ٹوئٹ میں 18 سے 45 سال کے لوگوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ سلاٹوں کی بکنگ کے بغیر ویکسینیشن سنٹروں پر نہ جائیں۔ مہربانی کر کے مہم کو شروع کرنے کی تاریخ کا انتظار کریں۔ تاہم ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ 45 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی ٹیکہ کاری معمول کے مطابق جاری ہے۔

دریں اثنا انتظامیہ کی لوگوں سے کورونا ویکیسن لگوانے کی تاکید کے بیچ لوگوں نے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں کورونا ویکیسن کی عدم دستیابی کا الزام لگایا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن سینٹروں پر ویکسین دستیاب نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ایک خاتون کو ایک سینٹر کے باہر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ‘ہم یہاں لگاتار ویکسین لگوانے کے لئے آ رہے ہیں،

لیکن یہاں بولا جاتا ہے کہ ویکسین پرسوں دستیاب ہوگا اور جب اس دن آتے ہیں تو یہاں کہا جاتا ہے آج بھی دستیاب نہیں ہے، ہم کہاں روز روز یہاں آئیں گے، کسی کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہے ایک طرف لاک ڈاؤن ہے، خطرہ ہے، مجھے لگتا ہے کہ میں خود کورونا پازیٹو ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button