
اے راجہ کو وزیر اعلی کے خلاف قابل اعتراض بیان دینا مہنگا پڑا،الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم لگائی پابندی
چنئی: (اردودنیا.اِن)تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں جاری مہم کے درمیان ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ڈی ایم کے پارٹی کے رہنما اور سابق مرکزی وزیر اے راجہ کے خلاف الیکشن کمیشن نے بڑی کارروائی کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اے راجہ پر 48 گھنٹے انتخابی مہم کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ اقدام اس لئے اٹھایا ہے کیونکہ انہوں نے ریاست کے وزیر اعلی پلانی سوامی کے خلاف قابل اعتراض بیان دیاتھا۔
الیکشن کمیشن نے اے راجہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ راجہ کی تقریر نہ صرف توہین آمیز ہے ، بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے اور خواتین کے وقار کو بھی مجروح کرتی ہے۔اس طرح کا بیان انتخابی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔چیف منسٹر کا موازنہ اپنی پارٹی کے سربراہ ایم کے اسٹالن سے کرتے ہوئے اے راجہ نے کہا تھا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسٹالن کا جنم صحیح طریقے سے ہوا ہے۔
مطلب شادی کے بعد اور رسم رواج کے ساتھ پورے نو مہینے جب کہ پلاسوامی پری میچیور بے بی ہیں جو قبل از وقت پیدا ہوگئے ہیں۔ اے راجہ کے بیان کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے نے الیکشن کمیشن کو شکایت کی تھی اور ان کی انتخابی مہم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ شکایت موصول ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے اس پر توجہ دی اور 48 گھنٹوں تک انتخابی مہم کرنے پر پابندی عائد کردی۔



