ممبئی(فردوس سورتی) : انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے جعلی پاسپورٹ بنانے میں ملوث ایک گروہ کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس میں ایک بنگلہ دیشی شہری بھی شامل ہے۔ یہ مقدمہ ٢٩ نومبر کو اے ٹی ایس ڈپارٹمنٹ کالا چوکی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس کیس میں پولیس نے ملزموں کو ممبرا اور وڈالا سے بھی گرفتار کیا ہے۔ انکوائری میں انکشاف ہوا ہے کہ، جو شہری بنگلہ دیش سے بغیر لائسنس کے اور بغیر کسی درست دستاویز کے ہندوستان آئے تھے انہیں جعلی ہندوستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دیئے جارہے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ، اس معاملے میں گرفتار ملزم بنگلہ دیشی دراندازی بھی ہے۔ اس معاملے میں اکرم شیخ کی گرفتاری کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ وڈالا کے نور نبی اور کوسہ کے رفیق شیخ جعلی دستاویزات تیار کرنے میں ان کی مدد کررہے ہیں۔ ملزم آدھار کارڈ، پین کارڈ، انتخابی شناختی کارڈ، راشن کارڈ، بجلی کے بل کے ذریعے ہندوستانی پاسپورٹ تیار کرنے میں مدد فراہم کررہے تھے۔ انکوائری کے مطابق، شیخ نے ٢٠١٣ سے ٨۵ افراد کو غیر قانونی طور پر پاسپورٹ جاری کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ، ادریس شیخ اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ اور پیدائشی سرٹیفکیٹ تیار کررہے تھے۔ اینٹوپ ہل کا اوین کیدارے ملزم ادریس شیخ کو جعلی دستاویزات کے لئے ربڑ اسٹیمپ بنانے میں مدد فراہم کررہا تھا۔ ملزم نتن نکم، جو تلوجہ کا رہائشی تھا۔ جعلی بینک کے پاس بکس مہیا کرتا تھا۔ اس معاملے میں اکرم شیخ، محمد رفیق شیخ، اوین کیدارے، سہیل شیخ، عبدل شیخ، عبد الحسن شیخ، ادریس شیخ اور نتن نکم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ ٤٦۵، ٤٦٧، ٤٦٨، ٧٤١، ٤٢٠، ٣٤ اور پاسپورٹ ایکٹ ١٩۵۵ کی دفعہ ٣ اور ٦ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔



