بین ریاستی خبریں

بانی و روح رواں خادم القران دارالقرات کلیمیہ قاری نثار احمد صاحب کلیمی کا انتقال

اورنگ آباد: 6 جنوری ( ای میل) علاقہ مراٹھواڑہ کی علمی مذہبی اور قرانی تعلیم اور تجوید کے حوالہ سےمعروف شخصیت ، بانی و روح رواں خادم القران دارالقرات کلیمیہ و صدر شعبہ قرأت سبعہ و عشرہ جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم جامع مسجد اورنگ آباد قاری نثار احمد کلیمی آج صبح ڈھائی بجے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ انکی نماز جنازہ اورنگ آباد میں معین العلوم اسکول گراؤنڈ سلک ملز کالونی میں ڈھائی بجے دوپہر ادا کی گی اور حضرت شاہ نور حموی(شاہ نور میاں درگاہ) قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ انکی نمازجنازہ اور تدفین میں شہر اورنگ آباد اور دیگر مقامات سے بڑی تعداد میں علماء کرام ، سیاسی و سماجی قائدین معززین و دوست واحباب اور رشتہ داروں نے شرکت کی۔

انکے انتقال کی خبر سے پورے مراٹھواڑاہ میں غم و رنج کی لہر دوڑگئی۔ قران کی تعلیم کو انھوں نے اپنی زندگی کا مقصد بنایا تھا۔ اور اس کے لیے انھوں نے اپنی ساری زندگی قران کی تعلیم دینے اور قرات و تجوید سکھانے میں گذاری، انکے شاگرد نہ صر مراٹھواڑہ بلکہ مہاراشٹرا کے متعدد اضلاع میں موجود ہیں،عبدالہادی(سلک ملک کالونی اورنگ آباد) نے اپنے استاد کے بارے میں بتایا کے 1975 میں قاری صاحب کی اورنگ آباد آمد سے تجوید کا سسلسلہ شروع ہوا۔اس وقت تین ہی قاری شہر میں موجود تھےمرحوم صوم وصلات کے پابندتھے تہجد کے وقت تجوید سیکھاتےتھے اپنے شاگردوں سے شفقت سے پیش آتے انکے شاگردوں میں ڈاکٹرس ،انجنئیرس،و دیگر باوقار پیسشہ سے منسلک احباب شامل ہیں۔ پچاس سے زائد علماء نے اپ سے قرات کی تعلیم حاصل کی،ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا بہت مشکل ہے۔انتقال کی اطلاع پاکر ابوصالح ندوی نے قاری صاحب کے لیے اپنے احساسات اشعار میں قلمبند کیے ۔

محبت سے کوئی شکایت ہے، نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے قراں سے ہے۔

بزمِ انجم میں قبا قرآں کی پہنی میں نے
مری ساری فضیلت اسی قرآں سے ہے۔

فن تجوید کہتے ہےکسیے ہوتی کیا ہے
یہ شعور شہر خموشاں کوملا اسی بیباک سے ہے۔

رخصت ہوکے ہم اپنے بزم سے جانے کو ہے
دھوم فرشتوں میں مچی ہے قاری قرآں آنے کو ہے۔

از قلم : ابوصالح ندوی

متعلقہ خبریں

Back to top button